ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 31
31 سے ان باتوں پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالٰی نے بہت ہی غیر معمولی حکمت عطا کی تھی اور وہ ان جانوروں کی آوازوں کو محض لغو نہیں سمجھا کرتے تھے، معمل نہیں سمجھا کرتے تھے بلکہ ان پر غور فرمایا کرتے تھے اور غور فرمانے کے نتیجے میں ان پر بہت سے ایسے مضامین روشن ہو جاتے تھے۔جو عام آدمی پر روشن نہیں ہوتے۔طیور کے اور بھی معافی ہیں جو تفاسیر میں ملتے ہیں لیکن ظاہری طور پر اگر معنی کئے جائیں تو یہی معنی بنتے ہیں کہ حضرت سلیمان ایک بہت ہی غیر معمولی حکمت رکھنے والے نبی تھے جن کو خدا تعالٰی نے عام نبوت کی باتوں کے علاوہ بھی بہت سے حکمت کی باتیں بتائی تھیں اور ان میں ان کا ایک یہ شوق بھی تھا کہ جانوروں کے اشاروں سے ان کی حرکتوں سے ان کی آوازوں سے معلوم کریں کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں اس مضمون پر بھی DAVID ATTENBOROUGH نے ایک بہت ہی دلچسپ فلم بنائی ہے یا ایک سے زائد بتائی ہوں گی۔مجھے ایک دفعہ ایک دیکھنے کا موقعہ ملا اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ پرندوں کی جو آوازیں ہیں وہ صرف آپس میں ایک ہی جنس کے پرندے نہیں سمجھتے بلکہ دوسری جنس کے پرندے بھی سمجھتے ہیں اور جب یہ خاص وقتوں میں خاص پیغام دینا چاہتے ہیں تو سارا جنگل ان آوازوں سے گونج رہا ہوتا ہے۔انسان سمجھتا ہے کہ اس نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سمجھے گا اور کون سنے گا لیکن اس نے بڑے گہرے غور سے یہ معلوم کیا کہ وہ جانور جو اپنی آواز دور تک اپنے دوسرے ہم جنسوں کو پہنچانا چاہتے ہیں وہ اس آواز کے ہنگامے میں ان وقفوں کی تلاش کرتے ہیں جب دوسروں کی آوازیں اس وقت بند ہوئی ہوتی ہیں۔چنانچہ عین اس وقت جبکہ دوسری بڑی آوازیں جو ان کی آواز کو ڈ ہوتی ہیں وہ رکتی ہیں تو ایک دم پھر یہ اپنی چیخ چلاتے ہیں اور اس سلسلے میں اور بھی بہت سی دلچسپ باتیں اس نے دریافت کیں تو پتہ چلا کہ با قاعدہ روم ہیں، جس طرح با قاعدہ ریڈیو سٹیشنز نے آپس میں WAVELENGTH الاٹ کی ہوئی ہوتی ہیں کہ اس WAVELENGTH پر ہم پیغام بھیجیں گے اس پر تم بھیجو تاکہ مل جل نہ جائیں اسی طرح جانوروں کی آوازوں کی WAVE LENGTH' ان کی پیچیں،