ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 266

266 والد ساتھ مل کر محنت نہیں کرتے اور ماں پر چھوڑ دیتے ہیں کہ جس طرح کا ہے ان کو پالے ان کا خیال رکھے نہ رکھے۔والد تو صرف کمانے میں مصروف رہتے ہیں۔اور تے ہیں ہم نے تو اپنا فرض ادا کر دیا۔قرآن کریم نے جو دعا سکھائی اس میں یہ بتایا رت از حمهُمَا كَمَا رَ تيزي صَغِيرًا { کہ اے میرے اللہ ان دونوں پر اس طرح رحم فرما جس طرح ان دونوں نے رحم کے ساتھ میری تربیت کی۔یعنی ماں اور باپ دونوں اولاد کے لئے محنت کرنے میں برابر کے شریک ہونے چاہئیں اور دونوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں مگر ذمہ داریاں سمجھتے ہوئے نہیں بلکہ رحم کے نتیجے میں اور شفقت کے نتیجے میں۔پس اس دعا کو اب دوباره واخْفِضُ لَهُمَا جَنَاءَ الذل کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو آپ کو سمجھ آجائے گی کہ وہاں پرندوں کی ہی مثال دی گئی ہے کیونکہ جانوروں کی دنیا میں سب سے زیادہ مل کر اولاد کی خدمت کرنے میں پرندے ہیں، ان کے مقابل پر کسی اور جانور کی کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔جس طرح پرندے دونوں مسلسل محنت کرتے ہیں اپنی اولاد کے لئے اس طرح دوسرے جانوروں میں اتنی مکمل مشترکہ محنت کی مثال نہیں ملتی۔گھونسلہ بنانے میں بھی وہ اسی طرح محنت کر رہے ہوتے ہیں۔خوبراک مہیا کرنے میں بھی اسی طرح محنت کر رہے ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات آدھا وقت Male یعنی نر پرندہ بیٹھتا ہے اور آدھا وقت انڈوں پر مادہ پرندہ بیٹھتی ہے اور پھر جہاں تک خوراک مہیا کرنے کا تعلق ہے اس میں بھی دونوں محنت کرتے ہیں مگر نر پرندے کو بعض دفعہ زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے خوراک مہیا کرنے میں تو فرمایا یہ بھی ہمیں اس دعا سے حکمت سمجھ آگئی کہ صحیح تربیت کرنے میں ماں کے علاوہ باپ کو برابر کا شریک رہنا چاہئیے۔اور جہاں ماں اور باپ مل کر اولاد سے حسن سلوک کر رہے ہوں وہاں طلاقیں شاذ کے طور پر واقع ہوں گی۔وہ گھر نہیں ٹوٹا کرتے۔اکثر وہی گھر ٹوٹتے ہیں جہاں اولاد کی تربیت میں دونوں میں سے کسی ایک کا زیادہ دخل ہوتا ہے اور آپس کے تعلقات اس حد تک خراب ہوتے ہیں کہ دونوں بیک وقت اپنی اولاد کی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے۔اسی وجہ سے ایسی اولادیں پھر بڑی ہو کر زیادہ خراب ہو جایا کرتی ہیں۔بعض دفعہ وہ ماں کی سائیڈ لیتی ہیں کیونکہ ماں