ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 259

259 بیوی اور بچوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی ویسا ہی معاملہ کرے گا اس میں کوئی کوتاہی رہ جاتی ہے یا والدین کو وہم گزرتا ہے کہ ہم سے ویسا پیار نہیں جیسا اپنی بیوی اور اولاد سے ہے تو ان تمام باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن کریم نے بڑی حکمت کے ساتھ فرمایا لا تقل لهتارت ایسی باتیں ہونگی جن کے نتیجے میں ہو سکتا ہے تمہیں جائز یا ناجائز شکایت پیدا ہو اور والدین تم سے بظاہر سختی کا سلوک کرنا شروع کر دیں تو تم جو بچپن کی نرمی کے عادی ہو اس سلوک سے گھبرا کر اُف نہ کہ بیٹھنا۔اف کا لفظ کوئی گالی نہیں ہے۔کوئی سخت کلامی نہیں ہے۔ایک اظہار افسوس ہے۔فرمایا کہ اظہار افسوس تک نہیں کرتا۔ولا تنهرهما اور جھڑکنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اپنے والدین کے ساتھ ہرگز سخت کلامی نہیں کرنی۔وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا اور ان کے ساتھ عزت کا کلام کرو۔ہمیشہ احترام کے ساتھ ان سے مخاطب ہوا کرو۔والحوض لهما جناح الذلي اور اپنی نرمی کے پر ان کے اوپر پھیلا اور مین الرحمة رحمت کے اور نرمی کے یا رحمت کے نتیجے میں جو نرمی پیدا ہوتی ہے اس کے پران کہ پر پھیلا دو اور پھر یہ دعا کرو۔وقلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَتَيْنِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان پر اسی طرح رحم فرما لمارتيني صَغِيرًا جس طرح انہوں نے بچپن میں بڑے رحم کے ساتھ میری تربیت فرمائی ہے۔یہ بہت ہی پیاری اور کامل دعا ہے اور بہت سی ذمہ داریوں کی طرف جو اولاد کے زمہ اپنے والدین کے لئے ہیں ، ہمیں توجہ دلاتی ہیں لیکن اس دعا میں اور بھی بہت حکمتیں پنہاں ہیں۔اب میں نسبتاً تفصیل سے اس آیت کے بعض مضامین کھول ی کر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔والدین کے ساتھ احسان کا سلوک ضروری ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ احسان کا حکم دیا گیا ہے، ادائیگی فرض کا نہیں اور احسان بظا ہر ضروری نہیں ہوا کرتا۔احسان تو ایسا معاملہ نہیں ہے کہ ہر انسان پر فرض ہو۔کیا یا نہ کیا کوئی فرق نہیں پڑتا۔یعنی اگر فرق پڑتا بھی ہے تو احسان ایک