ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 245
245 کرو۔اللہ تعالیٰ تو تمہیں مشکل میں ڈالے بغیر بھی معاملے حل کر سکتا ہے۔اس لئے خواہ مخواہ کیوں اپنے آپ کو مشکل میں ڈالتے ہو آپ نے یہ کہہ کر ہم پر بڑا احسان فرمایا لیکن دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ میرے بندے جب بعض دعائیں مانگتے ہیں تو میں ان کے دل کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے ایسا کرتا ہوں۔اس دعا نے اور اس کی قبولیت نے مل کر اس معاملے کو اتنا حسین بنا دیا ہے کہ جب سے دنیا بنی ہے ایسا عجیب واقعہ کبھی دنیا میں پیش نہیں آیا کہ وہ خدا جو اپنے بندے سے اتنا پیار کرتا ہے اور پھر ایسے پاک باز بندے سے یعنی یوسف جیسے بندے سے اس کی دعا بھی سنتا ہے اور اس کو بچا بھی لیتا ہے اور پھر قید خانے میں ڈال دیتا ہے۔تو قید خانے میں کیوں ڈال دیا ؟ حضرت یوسف علیہ السلام کی قید میں حکمت میرے نزدیک اس لئے کہ حضرت یوسف کے دل کی سچائی ثابت ہو اور عام دعا کرنے والوں سے الگ اور ممتاز کر کے آپ کو دکھایا جائے ورنہ دعا کرنے والے بڑی بڑی دعائیں کر جاتے ہیں اور باتوں باتوں میں اپنی جان فدا کرتے رہتے ہیں لیکن جب ابتلاء کا وقت آتا ہے تو جانیں لے کر بھاگ جاتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے اور مجھے کئی خط بھی آتے ہیں کہ جی آپ کہیں تو مال جان سب کچھ حاضر اور چھوٹا سا ابتلاء اولاد کی طرف سے آجائے یا قضاء کے فیصلے کی طرف سے آجائے تو نہ جان حاضر ہوتی ہے نہ مال حاضر ہوتا ہے، وہی لوگ باتیں بنانی شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں۔یہ خلیفہ ہے؟ اس میں تو انصاف ہی کوئی نہیں تو خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ منہ کی اکثر باتیں جھوٹی اور بے معنی ہوا کرتی ہیں۔خدا کے حضور سجدوں میں لوگ بڑی بڑی پیاری دعائیں کرتے ہیں۔راتے ہوئے بھی کرتے ہیں کہ اے خدا! یہ ہو جائے تو ہم سب کچھ پیش کرنے کے لئے تیار ہیں مگر جب مشکل پڑتی ہے تو اس وقت وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔قرآن کریم نے اس مضمون کو ایک اور جگہ یوں بیان فرمایا کہ تم لوگ تو قتال مانگا کرتے تھے۔کہتے تھے کہ اے خدا! ہمیں جہاد کے وہ میدان رکھا جہاں ہم اپنی قربانیاں پیش کریں اور اب وہ آگیا ہے تو تم کھڑے دیکھ رہے ہو۔تمہیں سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کریں تو دعا سے کوئی چیز مانگنا اور بات ہے اور جب وہ ابتلاء سامنے آکھڑا ہو تو اس میں پڑنا اور حوصلے کے ساتھ