ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 223 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 223

223 دوسروں کے خلاف حضرت شعیب کی دعا حضرت شعیب علیہ السلام کی دعا جبکہ قوم کے متکبروں نے آپ کو دھمکی دی اور وہ دھمکی یہ تھی کہ تم واپس سواد اعظم میں لوٹ جاؤ۔اکثریت قوم کی تمہیں واپس بلا رہی ہے۔تم نے اقلیت کی ایک عجیب سی نئی راہ اختیار کرتی ہے اور بہت معمولی تعداد میں ہو۔تمہاری حیثیت کوئی نہیں۔جب چاہیں ہم تمہیں مٹا سکتے ہیں اس لئے اب دو ہی باتیں ہیں۔جھگڑے ختم کرو اور بخشیں ختم کرو یا تو تم ہمارے مذہب میں واپس لوٹ آؤ یا پھر ہم تمہیں ملک بدر کر دیں گے اور تمہیں اپنے وطن میں بھی رہنے کا حق نہیں رہے گا۔اس پر حضرت شعیب نے جو جواب دیادہ ایک دعا تھی جو اپنے رب سے مخاطب ہو کر کی۔قوم یہ دھمکی دے رہی تھی اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ قوم کی بات کو بھلا کر وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا کہ۔وَسِمَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا، على اللهِ تَوَلَنَا اللہ کا علم ہر چیز پر وسیع ہے۔هَدَ اللَّهِ تَوَكَّلْنَا ہمارا توکل تو اللہ پر ہے نہ کہ کسی قوم کے سہارے پر نہ اکثریت پر نہ دنیاوی طاقت پر ربنا افتح بَيْنَنَادَ بَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَانتَ خَيْرُ الفاتحين (الاعراف : ٩٠) اے خدا! اب اس قوم اور ہمارے درمیان تو فیصلہ فرما کیونکہ ہمیں تو اب فیصلے کی کوئی طاقت نہیں اور تو حق کے ساتھ فیصلہ فرما۔۔۔وانت خير الفاتحين اور سب فیصلہ کرنے والوں سے تیرا فیصلہ بہتر ہوا کرتا ہے۔پس وہ قوم جو دین کی راہ میں ستائی جائے اور اسے دھمکی دی جائے کہ یا تم ہمارے اند رواپس لوٹ آؤ ورنہ ہم تمہیں ملک بدر کردیں گے ان کے لئے یہ بہت ہی موزوں دعا ہے اور ان کے حالات پر اطلاق پاتی ہے۔ملک بدر کرنے کا جو مضمون ہے اس کے متعلق یہ ذہن نشین کریں کہ ضروری نہیں ہوا کرتا کہ کسی کو وطن سے نکال کر ملک بدر کیا جائے۔اس کے شہری حقوق چھین کر بھی اس کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔پس مختلف ادوار کے مختلف انداز ہوا کرتے ہیں۔اس جدید دور میں ملک بدر کرنے کا ایک طریق یہ ہے کہ ملک میں رہتے ہوئے شہری حقوق سے محروم کر دیا جائے اور یہ واقعہ کوئی نیا نہیں اس سے پہلے بھی ہو چکا ہے۔