ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 198
198 دن آنے والا ہے جس میں کوئی شک باقی نہیں رہے گا۔جن باتوں کو تم آج نہیں سمجھ سکے۔وہ کل تمہارے سامنے کھول دی جائیں گی اور جب وہ کھول دی جائیں گی تو پھر تمہیں معلوم ہو گا کہ تم کتنی غلطی پر تھے۔اس لئے استغفار سے کام لیتے ہوئے دعاؤں کے ذریعہ ان ٹھوکروں سے بچنے کی کوشش کرو جن کا حال ایک ایسے دن پر کھول دیا جائے گا جس کے متعلق دعا کرنے والے خود عرض کرتے ہیں کہ ليوم لا ريب فيو اس دن ہمارے ساتھ ربوبیت کا سلوک فرمانا جس دن سب دنیا اکٹھی ہوگی اور اس دن میں کوئی شک والی بات نہیں ہوگی۔یہاں دو معنی ہیں۔وہ دن شک سے بالا ہے یعنی لازماً ایسا ایک دور آنے والا ہے جس میں یہ باتیں ہونگی اور اس دن کوئی شک والی بات نہیں ہوگی سب پردے اٹھا دیے جائیں گے۔پھر سورہ آل عمران آیت نے ا میں متقیوں کی دعا کے طور پر یہ دعا سکھائی ربنا رئنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا اے خدا ! ہم ایمان لے آئے۔پس ہمارے گناہ بخش دے۔وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔خدا کا دیدار پانے اور فراخی رزق کی دعا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے خود یہ دعا سکھائی : قُلِ اللهُم مُلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلُكَ مِمَّنْ تَشَاءُ رَوَ تُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ تُولِجُ الَّيْلَ في النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِى اليْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الميت من الحي وَ تَرْزُقُ مَن تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (آل عمران : ۲۷-۲۸) اے محمد (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) ! تو مجھ سے یوں مخاطب ہوا کر مجھ سے یہ دعا کیا کر کہ اے ہمارے اللہ ! تو ملک کا مالک ہے یعنی ہر قسم کی ملکیت جس کا تصور کیا جا سکتا ہے وہ تیرے قبضہ قدرت میں ہے۔تُؤْتِي الْمُلْكُ مَنْ تَشَاءُ اور دنیا کی بادشاہتیں بھی اور آخرت کی بادشاہتیں بھی تیری طرف سے عطا ہوتی ہیں۔جس کو جو چاہے تو عطا فرما دے خواہ وہ اس دنیا کا ملک ہو یا آخرت کا ملک ہو۔و تنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَهَا: لیکن تو چھینے کی بھی طاقت رکھتا ہے، جب