ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 136
136 اور پردے پر راضی ہوئے نقاب پر راضی ہو جائے اور اس کی نگاہیں نقاب سے پار سرایت کر کے پیچھے اصل حسن کی تلاش نہ کریں۔اگر یہ کیفیت ہو تو یہ بھی شرک نہیں بنے گی لیکن غفلت ہوگی اور دنیا میں اکثر لوگ غفلت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنے عظیم علم کلام میں ایسے دنیا داروں کو غافل کے طور پر بیان فرمایا ہے اور بڑی باریکی سے ان کی غفلتوں کا تجزیہ فرمایا ہے۔پس غفلت یہ ہے کہ انسان اپنی تعریف کو اپنا کر اس پر اس طرح راضی ہو جائے گویا واقعی وہ اس کا مستحق تھا اور اس سے پرے کوئی اور قابل تعریف ذات نہیں رہی اور وہیں تعریف کا گویا رستہ بند کر کے اسے اپنے برتن میں ہی سمیٹنے لگ جائے۔یہ چیز غفلت کی کیفیت ہے جو بالآخر شرک پر منتج ہو جاتی ہے اور کئی قسم کی اور بھی برائیاں پیدا کرتی ہے۔پس جب خدا کی ذات کے تعلق میں اپنی ذات کا سوچا جائے اور اپنی تعریف ہوتے دیکھ کر خدا کی طرف دھیان نہ جائے تو یہ خطرناک بات ہے جس سے جماعت کو بچنا چاہیے۔خصوصا” عبادت کے وقت یہ ایک بہت اچھی ذہنی اور روحانی ورزش ہے کہ انسان جب الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کا عاشقانہ نعرہ بلند کرتا ہے تو تلاش کر کر کے اپنی حمد سے اپنے وجود کو خالی کرے اور یہ کوئی مصنوعی کوشش نہیں ہے، یہ حقیقی کوشش ہے کیونکہ جب آپ زیادہ گہری نظر سے ہر تعریف کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس سے پہلے بھی جیسا کہ میں تفصیل سے اس بات پر روشنی ڈال چکا ہوں، انسان کو ہر تعریف خواہ وہ غیر کی کرتا ہو یا اپنی سطحی دکھائی دینے لگتی ہے اور اس تعریف کے پیچھے عوامل کا بے انتہاء لمبا دور ہے جو بالآخر اس تعریف پر منتج ہوئے جن کے نتیجے میں وہ تعریف پیدا ہوئی جس پر انسان کا کوئی بھی بس نہیں۔کوئی بھی اختیار نہیں اور وہ خالصتہ " اللہ کے فضل سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔حسن خواہ جسمانی ہو یا روحانی یا اخلاقی ہو۔بد صورتی خواہ ذاتی جسمانی ہو یا اخلاقی یا روحانی ہو۔ہر چیز کے پیچھے کچھ عوامل کار فرما ہیں اور ان عوامل میں جہاں تک تعریف کا تعلق ہے محض اللہ کا فضل ہے جس کے نتیجے میں دنیا میں ہم قابل تعریف بنتے ہیں یا ہمارا کوئی دوست یا کوئی منظر قابل تعریف دکھائی دیتا ہے۔اس پہلو سے اس مضمون پر