ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 135

135 بيت الفضل لندن ۳۹ ر مارچ ۴۱۹۹۱ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رمضان المبارک کا آخری عشرہ تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : غیر اللہ کی حمد کی کامل نفی ضروری ہے گزشتہ خطبے میں میں نے یہ متوجہ کیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی حمد کے وقت اپنی ذات سے حمد کی نفی ضروری ہے ورنہ حقیقت میں خدا کی حمد کا اثبات نہیں ہو سکتا۔اس مضمون کا تعلق دراصل لا إله إلا الله سے ہے۔ملالہ میں جس اللہ کی نفی ہے اور الا اللہ میں جس وجود کا بطور معبود اثبات ہے اس کے دونوں تقاضے ہیں کہ پہلے غیر اللہ سے ہر قسم کی تعریف اور ذاتی تعلق کی نفی ہو جائے تو پھر خد اتعالیٰ کا وجود اُبھرتا ہے اور اگر کسی کپڑے پر ذاتی محبتوں کے رنگ بھی چڑھے ہوں اور خدا کے مقابل پر وہ رنگ قائم رہیں تو پھر خدا کا رنگ اس کپڑے پر نہیں پڑھتا لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان اپنی تعریف سے بالکل مستغنی ہو جائے کیونکہ اپنی تعریف چاہتا انسانی فطرت کا حصہ ہے بلکہ اسے شعلہ حیات کہنا چا ہئیے کیونکہ دنیا میں انسان جو بھی کام کرتا ہے اس میں بڑے محرکوں میں سے ایک اپنی تعریف چاہنا اور ایک اپنے متعلق بدگوئی سے بچنا ہیں اور یہ زندگی کے بہت ہی بڑے محرکات ہیں جیسے موٹروں میں پڑول جلتا ہے اسی طرح یہ دو طاقتیں ہیں جو انسانی زندگی کے عمل کو آگے بڑھاتی ہیں۔اس لئے یہ خیال نہ کیا جائے کہ اپنی تعریف چاہتا یا کسی دوسرے دوست کی تعریف کرنا جو اپنے محدود دائرے میں تعریف کا مستحق ہو یہ شرک ہے۔یہ ہرگز شرک نہیں لیکن شرک وہ بات ہے کہ انسان اپنی یا اپنے دوستوں یا عزیزوں کی تعریف پر جاکر ٹھہر جائے