ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 115
115 بیت الفضل - لندن ۲۲ مارچ ۱۹۹۱ء پشمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ سب سے سچا آئینہ تشہیر و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :- سورۂ فاتحہ سے متعلق گزشتہ چند خطبوں میں ذکر چلتا رہا ہے کہ کس طرح یہ نماز کا سلیقہ سکھاتی ہے۔عبادت کے گر بتاتی ہے۔اللہ تعالٰی سے تعلق کا ذریعہ بنتی ہے اور پھر بنی نوع انسان سے تعلق کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔اس لئے اس سورۃ پر محض سرسری نظر نہیں ڈالنی چاہیے بلکہ ہر نماز میں پڑھتے وقت بڑے غور سے اس کے مضامین سے گذرتا چاہیے اور انہیں اپنے نفس پر ساتھ ساتھ اطلاق کرتے چلے جانا چاہیے اور سورۂ فاتحہ کے آئینے میں اگر انسان اپنی تصویر دیکھنے کی عادت ڈال لے تو اس سے بہتر آرائش کا اور کوئی ذریعہ سوچا نہیں جا سکتا کیونکہ یہ سب سے سچا آئینہ ہے۔اس سے بہتر حق کے ساتھ آپ کو آپ کی تصویر دکھانے والا اور کوئی آئینہ نہیں۔اس ضمن میں الحمد کا جو مضمون پہلے بیان ہو تا رہا ہے اس میں میں نے بڑی وضاحت کے ساتھ جماعت کو یہ سمجھایا تھا کہ ہم کہتے تو یہ ہیں کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ یعنی تمام ترجمہ کلیتہ " ہر قسم کی کامل محمد صرف اللہ ہی کے لئے ہے اور کسی کے لئے نہیں اور جو حمد کسی کو نصیب ہوتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ملتی ہے۔اس ضمن میں میں نے دنیا کے روز مرہ کے مشاہدات آپ کے سامنے رکھے اور سمجھایا کہ کہتے تو ہم یہی ہیں لیکن بالعموم روز مرہ کی زندگی میں خدا کی تخلیق کی حمہ میں تو ڈوب جاتے ہیں لیکن خالق کی حمد کا ہمیں خیال نہیں رہتا۔پھول سے محبت کریں گے۔گلشن سے محبت کریں گے۔اچھے مکانوں سے محبت کریں گے حسن سے محبت کریں گے خواہ وہ