ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 83

83 ایک ہے END PRODUCT-WASTE PRODUCT تو ہر صنعت کا وہ مال ہے جس کی خاطر صنعت کاری کی جاتی ہے اور کار خانے بنائے جاتے ہیں اور اپنی آخری شکل میں بہت خوبصورت تبدیلیاں پیدا ہونے کے بعد وہ ایک نئے وجود کی صورت میں خام مال دنیا کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اب اس وقت آپ کے پاس جتنی بھی چیزیں ہیں وہ سب اسی طرح کسی نہ کسی کارخانے سے نکل کر ایک نئی شکل میں آپ کے سامنے ظاہر ہوئی ہیں۔کسی نے کپڑے کی ٹوپی پہنی ہوئی ہے، کسی نے اون کی ٹوپی پہنی ہوئی ہے، کسی نے قراقلی پہنی ہوئی ہے۔اب تصور کریں کہ یہ کیا چیزیں تھیں۔اسی طرح آپ کے لباس آپ کے بوٹ آپ کے قلم یہ سب خام مال تھے جو مختلف مراحل سے گزر کر بالاخر اس شکل میں آپ تک پہنچے جس میں آپ نے ان کو قبول کیا اور استعمال کیا لیکن آپ کا ذہن اس گندگی کی طرف کبھی نہیں گیا جو اس دوران پیدا ہوتی رہی اور ان چیزوں سے الگ کی جاتی رہی اور اسے ضائع شدہ مال کے طور پر ایک طرف پھینک دیا گیا۔چنانچہ اس زمانے میں صنعتوں نے جہاں بہت ترقی کی ہے، یہ ایک بہت ہی بڑا مسئلہ بن کر دنیا کے سامنے ابھرا ہے کہ اس WASTE MATERIAL کا کیا کریں۔یہ تو دنیا کے لئے عذاب بنتا جا رہا ہے۔جب یہ کم ہوا کرتا تھا اس زمانے میں انسان کی توجہ کبھی اس طرف نہیں گئی۔آج سے ۱۰۰ سال پہلے بھی صنعت کاری تھی بڑے بڑے کارخانے جاری تھے لیکن کبھی بھی اس زمانے کی اخباروں میں آپ کو یہ بخشیں دکھائی نہیں دیں گی کہ یہ جو اچھی چیزیں بنانے کی ہم کوشش کرتے ہیں اس کوشش کے دوران جو چیزیں ضائع ہو رہی ہیں ان کا ہم کیا کریں۔وہ سمندروں میں پھینک دیتے تھے یا عام کھلی جگہ پر پھینک دیتے تھے یا جھیلوں میں ڈال دیتے تھے اور کبھی ان کے نقصان کی طرف کسی کی توجہ نہ گئی۔اب چونکہ زیادہ چیزیں بن رہی ہیں، اسی طرح WASTE MATERIAL بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے اور وہ WASTE MATERIAL ایسی خطرناک چیز بن کر دنیا کے سامنے ابھرا ہے کہ اس کے غضب سے دنیا ڈرنے لگی ہے اور یہ بڑا بھاری مسئلہ ہے۔دنیا کی تمام بڑی قوموں میں اب بہت ہی زیادہ ٹکر کے ساتھ ان مسائل پر غور ہو رہا ہے