ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 465
465 کس وقت کی توبہ قبول نہیں ہوتی فرماتا ہے وَجَاوَزْنَا بِبَني اسراءيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنَ وَ جُنُودُهُ بَغْيًا وَ عَدْوًا، حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْخَرَقُ ، قَالَ أَمَنْتُ أَنَّهُ لا إلهَ إِلا الذي أمَنَتْ بِهِ بَنُو الشراء يل وانا مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْثَنَ وَقَدْ عَصَيْتُ قبل وكنتَ مِنَ الْمُقودين فرماتا ہے کہ جب ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا اور فرعون نے اپنے لشکروں کے ساتھ اس کی پیروی کی اور بغاوت کی باتیں کرتے ہوئے اور دشمنی کے ارادے لیکر ان کے پیچھے چل پڑا۔یہاں تک کہ جب اس | کے غرق ہونے کا وقت آپہنچا۔اس وقت اس نے یہ دعا کی لاإله إلا الذي آمنت به بنو الاسراءیک میں گواہی دیتا ہوں کہ بنو اسرائیل جس خدا پر ایمان لائے ہیں اس خدا کے سوا اور کوئی خدا نہیں۔وآنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اور میں مسلمان ہوتا ہوں۔تب خدا نے فرمایا انفاق کیا اب جب کہ تیرے غرق ہونے کا وقت آپہنچا ہے وَقَدْ عَصَيْتُ قبل اور تو اس سے پہلے ساری عمر نا فرمانی میں گزار چکا ہے۔وكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ اور تو ہمیشہ فساد کرنے والوں میں سے رہا۔اس دعا کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم نے اس دعا کو بھی مشروط رنگ میں قبول کر لیا۔یہ جانتے ہوئے کہ اس وقت آخری لمحے میں اس کو دعا کا کوئی حق نہیں تھا۔اس کی ساری عمر دیوں میں گزری۔ساری عمر بغاوت میں کئی۔اب جبکہ موت سر پر آکھڑی ہوئی بلکہ ڈوب رہا ہے ان لمحوں میں جو وہ دعا کرتا ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔لیکن اس کے باوجود بعض دفعہ اس دعا میں ایک شدت ایسی اضطرار کی پیدا ہو جاتی ہے کہ خدا اس کو بھی قبول فرمالیتا ہے۔لیکن کسی حکمت کے تابع۔فرمایا ہم نے اس کو یہ جواب دیا آلان کیا اب اس وقت ؟ پھر فرماتا ہے۔فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ ببرنك چلیں ہم تیرے بدن کو نجات بخش دیں گے۔کیونکہ روح کے خوف سے تو نے تو بہ نہیں کی تھی۔بدن کا خوف در پیش ہے تو تو بہ کر رہا ہے۔اس لئے اس آخری تو بہ میں روح کو تو نہیں بچاؤں گا لیکن تیرے بدن کو ضرور بچالوں گا۔کس لئے ؟ اس لئے لِتَكُونَ لِمَن خَلْفَكَ آيَةً نا کہ تو اپنے بعد میں آنے والوں کے لئے عبرت