ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 451
451 سے تعلق رکھتی ہے جو کھو کھلی کیفیت ہے اور وہ مومنوں کو دھوکہ دینے والی بات ہوتی ہے۔عام طور پر ایسے لوگ جو بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں وقت آنے پر ہمیشہ بزدلی دکھایا کرتے ہیں۔یہ دعا جو میں بیان کر چکا ہوں۔یہ سورہ نساء کی تھی۔پکڑ آنے کے وقت یہ کہنا کہ پھر ایسا نہیں کریں گے بے معنی ہے پھر سورۃ انعام ۲۸ تا ۳۱ میں مغضوب علی کی یہ دعا ہے۔ولو ترى إذ وقفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا لَيْتَنَا نُرَ وَلا تُكَذِّبَ بِايَتِ رَهْنَا وَ تَكُونَ من المُؤْمِنین کاش تو دیکھتا ان لوگوں کو جو آگ کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔یعنی مرنے کے بعد ان کا عذاب ان کو دکھائی دینے لگے گا۔فَقَالُوا لَيْتَنَا تُردُ ولا تكوت پالیت رہنا کہیں گے کاش ایسا ہو کہ ہمیں واپس لوٹا دیا جائے۔تب ہم ہرگز اپنے خدا کی اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہیں کریں گے وَتَكُونَ مِنَ المومنین اور ہم یقیناً مومنوں میں سے ہو جائیں گے۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے بل بدا لهم ما كانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ، وَلَوْ رُدُّ والعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وإِنَّهُمْ لَكَذِبُونَ - بل بدا لهُمْ مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْل ان کی وہ صورت حال وہ حقیقت ظاہر ہو چکی ہے جو اس سے پہلے وہ چھپایا کرتے تھے۔لیکن اگر وہ دوبارہ لوٹا دیئے جائیں تو ہمیشہ وہی کریں گے پھر بھی وہی کریں گے جس سے ان کو منع کیا جاتا تھایا منع کیا جاتا ہے۔اور اس دعوے میں وہ جھوٹے ہیں کہ اگر ہمیں ایک اور مہلت دی جائے تو ہم اس مہلت سے استفادہ کرتے ہوئے خدا تعالٰی کی آیات کی تصدیق کریں گے اور خدا تعالی کے احکامات کے مطابق کریں گے۔یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے۔اور اس کا فیصلہ دراصل اس دنیا میں ہو چکا ہوتا ہے۔خدا تعالٰی کا یہ کہنا کہ اگر ان کو دوبارہ لوٹایا جائے تو وہی کریں گے یہ محض ایک دعوئی نہیں بلکہ اس کا ثبوت ان لوگوں کی زندگیوں سے بارہا ملتا ہے۔ہر وہ شخص جو اپنے گناہ کے نتیجے میں اپنی پاداش عمل کا منہ دیکھنے لگتا ہے۔اور سمجھتا ہے کہ اس کی سزا قریب آگئی ہے ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ اگر یہ اس بارٹل جائے اگر اس دفعہ میں نہ پکڑا جاؤں تو میں توبہ کرلوں گا اور جب مشکل مل جاتی ہے۔تب ابتلاء دور