ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 424 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 424

424 بالآخر اسی کی طرف لوٹ کر جاتا ہے۔تو وہ یہ عرض کرتے ہیں۔عليك تو محلنا واليك انتِنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ اس دعا میں ایک بہت ہی گہرا پیغام ہے وہ یہ ہے کہ خدا کی طرف تو تم نے بہر حال لوٹ کر آتا ہے خواہ کافر بنو یا مومن بنو۔نیک ہو یا بد ہو۔آخر وہاں جائے بغیر چارہ نہیں ہے لیکن وہ لوگ جو از خود پہلے خدا کی طرف حرکت کرتے ہیں وہی ہیں جو مقبول ہوتے ہیں۔وہی ہیں جو اس کو پالیتے ہیں۔تو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام اور آپ کے غلاموں نے یہ دعا کی کہ اے خدا ہمارا تجھ پر توکل ہے۔اور ہم تیری ہی طرف آ رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ بالاخر تیری ہی طرف جاتا ہے۔اس لئے جو لوگ طومی طور پر خدا کی طرف سفر اختیار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے اور طاقت بخشتا ہے کہ وہ بالاخر اس کو پالیں۔پھر یہ دعا ہے۔ربنا لا تجعَلْنَا فِتْنَةٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا واغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ الممتحند : (4) اے ہمارے رب ہمیں ان لوگوں کے لئے فتنہ نہ بنا جنہوں نے انکار کر دیا۔فتنہ سے دو باتیں مراد ہیں۔ایک یہ کہ ہم کسی کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ بنیں۔ہم ایمان لے آئے۔ہم تجھ پر توکل کرتے ہیں۔ہم تیری طرف آتے ہیں لیکن راہ میں ایسی ٹھوکریں نہ کھائیں کہ کوئی اور دیکھنے والا بھی ٹھوکر کھا جائے اور ہماری وجہ سے کسی ابتلا میں پڑ کردہ راہ راست کو کھو دے۔یہ ایک بہت ہی اہم دعا ہے۔ہر انسان کو اپنے اعمال کی اس طرح نگرانی بھی کرنی چاہئے اور دعا بھی کرنی چاہئے کہ میری وجہ سے کوئی انسان ٹھوکر میں مبتلا نہ ہو۔حضرت عیسی علیہ الصلوۃ و السلام نے ایک مرتبہ اس مضمون کو یوں بیان فرمایا کہ ایک ایسا شخص جو کسی کے لئے ٹھوکر کا موجب بنتا ہے بہتر تھا کہ اس کی ماں نے اسے جنم نہ دیا ہوتا کیونکہ وہ شخص بھی پکڑا جاتا ہے۔اس لئے دعا کے ذریعے اللہ تعالٰی سے مدد طلب کرتے رہنا چاہئے۔امریکہ کے اس سفر کے دوران بارہا مجھ سے بعض دوستوں نے یہ ذکر کیا کہ پاکستان سے آنے والے اس طرح کرتے ہیں اور اس طرح کرتے ہیں اور ہمارے