ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 336
336 نمونہ ہے کہ وہ بھی اپنے واقفین نو بچون کی اسی رنگ میں تربیت کریں۔کہ عام بچوں ے مختلف دکھائی دیں۔بہت ہی حسین اور دلکش انداز میں ان کو پالا پوسا جائے اور پروان چڑھایا جائے لیکن دعا کے نتیجہ میں یہ توفیق مل سکتی ہے۔ایک دعا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے ساحروں کی دعا ہے جو رہ گئی تھی۔یہ سورۃ الاعراف آیت ۱۲۷ ہے۔ربنا افرغ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ اے ہمارے رب ہمیں صبر عطا فرما اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دیتا۔پہلے یہ مضمون دو سرے رنگ میں گزر چکا ہے۔مراد یہ ہے کہ چونکہ وہ فرعون کو مخاطب ہو کر چیلنج دے بیٹھے تھے کہ جو عذاب تو دے سکتا ہے ہم کو دے۔جو ہم سے کرنا چاہتا ہے کر گزر لیکن ہم کسی قیمت پر بھی مرتد نہیں ہونگے اور جو ایمان اللہ تعالی نے عطا فرمایا ہے اس سے ہر حالت میں چھٹے رہیں گے۔یہ انکا چیلنج تھا فرعون کو۔لیکن معا ان کا ذہن اس طرف گیا کہ یہ خدا کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔خواہش ہے۔ارادے ہیں لیکن انسان کمزور ہے اس لئے اس معاملے میں لازما ہمیں خدا سے طاقت مانگنی چاہیئے۔پس ہر وہ مومن جو نیک ارادے باندھتا ہے اور وقتی طور پر خلوص سے باندھتا ہے جانتا ہے کہ وہ تقویٰ کے ساتھ یہ فیصلے کر رہا ہے اس کے لئے بھی نصیحت ہے کہ دعا سے اللہ تعالٰی سے مدد مانگے ورنہ نیک باتوں کے نیک ارادے جو خلوص کے ساتھ بھی کئے گئے ہوں ضروری نہیں کہ انسان کو ان کے پورا کرنے کی توفیق مل سکے پس آخری بات یہ کہہ دی کہ وقوقنا مسلمین ہمیں بلانا اس وقت جب کہ ہم تیری نظر میں فرمانبردار ہوں۔دیدار الہی کے لئے حضرت موسی کی دعا ایک حضرت موسیٰ کی مشہور دعا جو دیدار الہی کے لئے انہوں نے کی تھی حالانکہ دیدار تو روز ہوتا تھا۔کچھ اور معنوں میں وہ دیدار چاہتے تھے۔یہ سورۃ الاعراف ۱۴۴ ۱۴۵ ہے۔ولما جاء موسى لِمِيْقَاتِكَادٌ حَلَمَهُ رَبُّهُ