ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 337
337 اور جب وقت مقررہ اور مقررہ جگہ پر موسیٰ اللہ تعالٰی کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے وكلمة ربہ اور خدا نے ان سے کلام کیا۔قَالَ رَبِّ اين انظر اليك اے میرے خدا ایسا کر کہ میں تجھے دیکھوں اور بہت ہی خوبصورت محاورہ ہے آرت کا مطلب ہے مجھے دیکھا۔آنگز کہ میں دیکھوں۔تو عام بول چال میں ہم یہ کہہ سکیں گے اے اللہ مجھے دکھا تو سہی کہ تو کیسا ہے تاکہ میں تجھے اپنی آنکھوں سے دیکھ تو لوں الرني انظر اليك ، قَالَ لَن تَريني فرمایا۔اے موسیٰ! تو ہر گز مجھے نہیں دیکھ سکے گا۔ولكن القول الْجَبَلِ يَا اسْتَقَرٌّ مَعَانَا فَسَوْفَ تَرْيني - ہاں تو اس پہاڑ کی طرف دیکھ اگر یہ اپنے مقام پر ٹھہرا رہا پس پھر ممکن ہے تو بھی مجھے دیکھ سکتے۔قلما تجد ربُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَعَاوَ خَر موشی صحقًا اور موسیٰ خش کھا کر پچھاڑ کھا کر جا پڑے۔فلمَّا افَاقَ قَالَ سُبْحَنَكَ تُبْتُ الْهَكَ وَآنَا اول المُؤْمِنین پس جب آپ کو ہوش آئی تو کہا سبختك اے رب تو ہر کمزوری سے پاک ہے۔یعنی ایک دعا سے بات شروع ہوئی تھی۔دعاپر ختم ہو رہی تھی اس لئے پوری آیت پڑھنی پڑی ہے آپ کو بتانے کے لئے کہ بیچ کا مضمون کیا تھا اور آخر پر پھر ایک دعا ہے۔) حجت الفت میں تو بہ کرتا ہوں تیری طرف وانا اول المومنین اور میں پہلا مومن ہوں۔اس آیت کے ساتھ ایک روایت وابستہ ہے جس نے بعض اشکال بھی پیدا کئے ہیں اور کافی اس پر مفسرین نے احادیث کے ماہرین نے بخشیں کی ہیں۔روایت یہ ہے کہ قیامت کے دن جب حشر نشر ہو گا اور جب خدا تعالیٰ تجلی فرمائے گا تو سب بے ہوش ہو کر جاپڑیں گے اس وقت سوال یہ ہے کہ پہلے کس کو ہوش آئے گی۔ایک حدیث ہے کہ حضرت موسیٰ سب سے پہلے ہوش میں آئیں گے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم دیکھیں گے تو موسیٰ پہلے ہی ہوش میں کھڑے ہوں گے۔اس کی توجیہ اس حدیث میں یہ بیان ہوئی ہے کہ موسیٰ کو اس سے پہلے اس کا تجربہ ہو چکا ہے وہ تجملی جس کے نتیجہ میں آنا " فانا" انسان هوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔اس کا جلوہ اتنا سخت ہے کہ طبیعتیں برداشت نہیں کر سکتیں اس دنیا میں موسیٰ نے مانگ لی تھی اور اس کا تھوڑا سا نمونہ موسیٰ دیکھ چکا