ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 299
299 الیق کا مطلب ہے جیسے گاڑی چھوٹتی ہوئی آپ دیکھتے ہیں تو دوڑ کے پکڑتے ہیں گاڑی یا جہاز کی سیٹیاں بج چکی ہیں، رخصت ہونے والا ہے تو آپ تیزی سے آگے جاتے ہیں کہ میں رہ نہ جاؤں تو فرمایا کہ وہ جہاز پہلے ہی بھرا ہوا تھا اور چل رہا تھا حضرت یونس نے دیکھا تو دوڑ کر اس کو پکڑا۔فَسَاحَة فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ قرع حضرت یونس نے ڈالا۔اقرار وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ اپنے گناہوں کا انکے سامنے اقرار کیا۔معلوم ہوتا ہے جہاز ڈولا ہے، پہلے ہی بھرا ہوا تھا، طوفان آگیا ہے، لوگ ڈر گئے تو یہ فیصلہ ہوا کہ قرعہ ڈالا جائے اور جہاز کا لفظ تو اس پر اطلاق ہی نہیں کرتا۔اس زمانے کے لحاظ سے جہاز کہلاتا ہو گا لیکن ایک عام کشتی تھی ورنہ جہاز سے ایک آدمی کے پھینک دینے سے تو کوئی فرق نہیں پڑا کرتا۔اتنی بڑی کشتی تھی اس سے بڑی نہیں تھی کہ اگر اس میں سے ایک آدمی بھی باہر پھینک دیا جائے تو اس کے نہ ڈوبنے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں بچ جانے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں۔چنانچہ خدا کی شان ہے کہ حضرت یونس سے قرعہ ڈلوایا گیا اور اس میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ پہلے ہی چونکہ بہت سے مسافر بھرے ہوئے تھے ، حضرت یونس چونکہ بعد میں آئے تھے ، اگر کوئی اور قرعہ ڈالتا تو حضرت یونس کو یہ شک پڑ سکتا تھا کہ مجھے انہوں نے نکالنا ہی تھا بہانہ بنالیا ہے، اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت یونس کو بتانے کے لئے کہ میری تقدیر کام کر رہی ہے اس میں کسی بندے کی سازش کا دخل نہیں ہے، ایسا انتظام کیا کہ کشتی والوں نے آپ ہی کو کہا کہ آپ قرعہ ڈالیں چنانچہ جب قرعہ نکالا تو آپ کا نام نکلا اور مُنحَضِينَ یعنی سمندر میں پھینکے ہوؤں میں سے وہ ہو گیا۔فانتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَهُوَمُلِيمُ اس حالت میں مچھلی نے اس کو نگلا کہ وَهُوَ مُلِیہ کہ وہ ملامت کرنے والا تھا یعنی اپنے نفس پر ملامت کرنے والا تھا یا ملامت زدہ تھا فلولا انه مان من المستعین پس اگر ایسا ہوتا کہ اس سے پہلے وہ خدا کی تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا لليث في بَطْبة إلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ تو یونس مچھلی کے پیٹ میں اس وقت تک رہتا کہ جس وقت دوبارہ انسانوں کو حشر کے دن اٹھایا جائے گا۔