ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 227 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 227

227 ڈر تھا کہ سب ہلاک نہ ہو جائیں۔خدا تعالٰی کی لقاء کے لئے (یعنی جس حد تک بھی ان کو لقاء نصیب ہو سکتی تھی) حضرت موسیٰ چنیدہ ستر آدمیوں کو ساتھ لیکر جا رہے تھے اور سکرام آگے سے زلزلہ آگیا اور وہ بھی بڑا خطرناک تو ایسے موقعہ پر حضرت موسیٰ نے کیا دعا کی وہ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِّن قَبْلُ وراياي کہ اے خدا! اگر تو دعا یہ ہے۔چاہتا تو اس سے پہلے بھی ان کو ہلاک کر سکتا تھا۔اس وقت جبکہ ایک خاص جسم پر جا رہے ہیں یہ تو ہلاکت کا وقت نہیں ہے۔یہ نہیں کہ یہ گن گار نہیں ہیں۔یہ نہیں کہ ان کو ہلاک کرنا درست نہیں ہے، پر مجھے موقعہ اچھا نہیں لگ رہا اور جہاں تک تیری قدرت کا تعلق ہے۔دائیا تیا چاہتا تو مجھے بھی ہلاک کر دیتا۔آتُهْلِكُنا يما فعل السفهاء منا کیا تو ہمیں اب اس وجہ سے ہلاک کرے گا کہ ہما رے بعض بیوقوفوں نے شرک اختیار کیا ؟ ان میں الا فشنگ یہ نہیں میں مان مي ان هي الا فتنتك کا یہ مطلب ہے کہ مجھے یقین ہے کہ یہ صرف آزمائش ہے۔ڈراوا ہی ڈراوا ہے اور کچھ نہیں ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تو ایسی بات تضلُّ بِهَا مَن تَشَاءُ وَتَهْدِي مَن تَشَاء اس طرح کی آزمائشوں کے ذریعے تو جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔مراد ہدایت عطا کرنا ہے اور جن کمزوروں کو چاہتا ہے ان کو نگا کر دیتا ہے اور ان سے ناراضگی کا اظہار کرتا ہے۔انت ولينا لیکن اے خدا ! یا د رکھنا کہ ہمار ا ولی تو ہے۔تیرے سوا اور کوئی نہیں۔تیرے سوا ہم کسی سے مدد نہیں مانگ سکتے۔نہ کسی اور دروازے کو کھٹکھٹائیں گے۔فاغفر لنا پس ہمیں بخش دے۔وارحمنا اور ہم پر رحم فرما۔وانتَ خَيْرُ النَّافِرِین تو سب بخشنے والوں سے بڑھ کر اور سب سے بہتر بخشنے والا کرے۔ہے۔واكتب لنا في هذو الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَفِي الْآخِرَةِ إِنَّا هُدْنَا لَيكَ (سورة الاعراف : ۱۵۶-۱۵۷) اے خدا! اس دنیا میں بھی ہمارے لئے حسنات لکھ لے۔اچھی چیزیں لکھ لے۔حسنتہ اس دنیا میں بھی ہمارا مقدر بنا دے۔وفي الأخيرة اور آخرت میں بھی۔اِنَّا هُدنا رتیک کیسی پیاری دعا ہے۔کہتے ہیں ہم تو اب تیری طرف آہی گئے ہیں۔لمبا سفر کر کے تیرے حضور حاضر ہو گئے ہیں۔اب تو