ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 206 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 206

206 اس وقت کیا ہوا۔فرمایا: فلما احس عيسى مِنْهُمُ الكفر کہ جب عیسی علیہ السلام نے اپنی قوم سے کفر کو محسوس کر لیا تب کہا: قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّه تو انہوں نے یہ درد ناک صدا بلند کی من أَنْصَارِي إلى الله کون ہے جو خدا کی راہ میں میری مدد کے لئے آگے آئے۔اس وقت وہ چند حواری جو آپ پر ایمان لائے تھے انہوں نے کہا: قَالَ الْحَوَارِ تُونَ نَحْنُ انصار الله کہ ہم تیری مد کے لئے خدا کی خاطر تیار ہیں۔امنا بالله ہم اللہ پر ایمان لے آئے۔وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ اور اے عینی اتو گواہ بن جا کہ ہم اسلام لانے والوں میں سے ہیں۔تب انہوں نے یہ دعا کی رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتُ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاعْتُبْنَا مَعَ اللهِدِينَ (آل عمران : (۵۴) کہ اے ہمارے رب! ہم جو تو نے اتارا ہے اس پر ایمان لے آئے ہیں۔واتَّبَعْنَا الرَّسُول اور ہم نے اس رسول کی پیروی شروع کر دی ہے جس رسول کو تو نے بھیجا تھا۔فَاعْتُبْنَا مَعَ اللهِدِينَ تو ہمیں بھی شاہدوں میں لکھ لے۔نیک اعمال اور اخلاص کی دعا اس دعا کی حکمت کو سمجھنا چاہئے۔اس کے دو حصے ہیں۔پہلے حضرت عیسی علیہ الصلوة والسلام سے مومن مخاطب ہوتے ہیں اور یہ عرض کرتے ہیں کہ آپ ہم پر گواہ بن جائیں اور اس کے بعد خدا سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ عرض کرتے ہیں کہ تو ہمیں گواہوں میں شمار کرلے۔یہ نہیں کہا کہ تو ہمارا گواہ بن جا۔عرض کیا : فاعتُبنَا مع الهدين ہمیں بھی شاہدوں میں لکھ لے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح انبیا ء پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں اور خدا پر ایمان لانے والوں کی نگرانی کریں اور ان کے اعمال کا ہمیشہ باریک نظر سے جائزہ لیتے رہیں کیونکہ قیامت کے دن ان کو ان لوگوں پر گواہ بنایا جائے گا اور گواہ بننے کے لئے جو شرائط ہیں وہ ان میں پائی جاتی ہیں۔یعنی اس معاملے میں گواہ بننے کے لئے ضروری شرط یہ ہے کہ جس نیکی کی وہ تعلیم دیتے ہیں اس نیکی پر عمل بھی کرتے ہیں۔اگر انبیاء میں یہ بنیادی شرط نہ پائی جاتی تو وہ ہرگز قوموں پر گواہ نہیں بنائے جاسکتے تھے۔پس نیکی کا گواہ بننے کے لئے