ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 205
205 بت الفضل - لندن وار اپریل ۱۹۹۱ در بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ انعام پانے والوں کی دعاؤں کا سہارا تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :- گزشتہ خطبے میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ سورۂ فاتحہ کی آخری دعا یعنی اهدنا الضراط المُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ انْعَمْتَ عَلَيْهِم ایک بہت ہی مشکل دعا ہے کیونکہ وہ لوگ جن پر خدا نے انعام فرمایا ان کی راہیں بہت مشکل راہیں تھیں اور ان پر چلنے کی دعا مانگنا بھی بڑے حوصلے کا تقاضا کرتا ہے۔ساتھ ہی میں نے یہ بیان کیا کہ جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان انعام یافتہ لوگوں کی زندگی کے حالات کو قرآن کریم کے شیشے میں دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اپنی راہوں کو دعاؤں کے زور سے آسان کیا اور دعاؤں کے سہارے ان کا یہ سفر جو بہت ہی مشکل تھا آسانی سے طے ہوا یہاں تک کہ وہ اپنے نیک انجام کو پہنچے۔پس نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں بھی جب ہم سورہ فاتحہ میں مذکور دعا کرتے ہیں تو ان دعاؤں کا سہارا چاہیے جن دعاؤں کا سہارا ہم سے پہلے انعام یافتہ لوگوں نے لیا تھا ورنہ اس راہ پر سفر کرنا تو درکنار یہ دعا مانگنے کی بھی ہمت نہیں پیدا ہو سکتی۔کچھ دعائیں جو قرآن میں مذکور ہیں ان کا بیان گزر چکا۔اب میں جہاں سے مضمون ختم ہوا تھا وہاں سے دوبارہ شروع کرتا ہوں۔حضرت عیسی علیہ السلام کی دعائیں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالی نے آپ کو مامور فرمایا اور بہت ہی مشکل کام تھا جو آپ کے سپرد ہوا یہاں تک کہ آپ نے محسوس کیا کہ ساری قوم انکار کر بیٹھے گی اور آپ کو رد کر دیا جائے گا تو