ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 191

191 شروع کر دیا۔غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ اس لئے اب ہم تجھ سے بخشش کا حق مانگتے ہیں، بخشش کی توقع رکھتے ہیں تو ہم سے بخشش کا سلوک فرمانا۔دیکھئے اس میں بھی کتنا انکسار ہے۔محمد رسول اللہ اور آپ کے ساتھی جس کیفیت کے ساتھ خدا کی وحی پر ایمان لائے کبھی دنیا میں کوئی قوم ایسی پیدا نہیں ہوئی جس نے اس شان کے ساتھ اس خلوص کے ساتھ اس طرح مضمون کی باریکیوں کو سمجھتے ہوئے خدا کے کسی نبی کی وحی پر ایمان لایا ہو مگر یہ لوگ محمد رسول اللہ اور آپ کے ساتھی اس وحی پر اس کامل شان کے ساتھ ایمان لے آئے اور پھر خدا کے سب رسولوں پر فرشتوں پر کتابوں پر سب پر ایمان لانے کے بعد پھر اپنا یہ دستور بنا لیا کہ سنا اور اطاعت شروع کر دی اور مقابل پر خدا سے کیا مانگا۔غُفْرَانَكَ رَبنا اس کے باوجود ہم کسی چیز کے مستحق نہیں ، ہم جانتے ہیں کہ یہ سب توفیق تیری دی ہوئی ہے، ہاں بخشش کی توقع رکھتے ہیں کہ ہم سے جو کمزوریاں ہو جائیں غفلتیں ہوں تو ہم سے بخشش کا سلوک فرما واليْكَ الْمَصِيرُ اور ہم نے آخر تیرے پاس پہنچنا ہے۔کوئی مفر نہیں ہے۔لازما" ہم سب آخر تیرے حضور پہنچیں گے۔لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا فرمایا : ہاں میں جانتا ہوں کہ تم میں سے مختلف لوگوں کو میں نے مختلف توفیق عطا فرمائی ہے۔کسی کو زیادہ طاقتیں دی ہیں، کسی کو کم طاقتیں دی ہیں۔چونکہ میں نے طاقتیں دی ہیں میں تم سے تمہاری طاقتوں کے مطابق سلوک کروں گا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ان کی طاقتوں کے مطابق اور ان کے غلاموں سے درجہ بدرجہ صدیقوں سے صدیقوں کے مطابق شہداء سے شہداء کے مطابق اور صالحین سے صالحین کے مطابق لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ قانون یہ ہے کہ جو کچھ بھی نیکی تم سے سرزد ہو جائے گی ؟ یا ان لوگوں سے اس نیکی کی میں جزاء ضرور دوں گا مگر یدی کے متعلق احتیاط کرلوں گا کہ نیت اور پختہ نیت کا دخل ہو۔جان بوجھ کر عمرا کی گئی ہو۔احتسبت میں واضح نیت اور ارادے کا معنی پایا جاتا ہے تو دیکھئے یہ بھی کتنا احسان اور مغفرت کا سلوک ہے، دراصل غفرانك کا جواب ہے۔فرمایا۔ہاں غفران کا سلوک کروں گا اس طرح کہ نیکی تم سے راہ چلتے اتفاقاً بھی ہو جائے