ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 137

137 غور ہونا چاہیے اور اس ضمن میں ایک مزید بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس حمد کا تعلق جب ہم خدا کے پیاروں سے جوڑتے ہیں اور انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مضمون سے باندھتے ہیں تو اس وقت ایک اور رستہ ہمارے سامنے کھلتا ہے اور ہم یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ اصل تعریف وہی ہے جو خدا کی طرف سے لوٹ کر آتی ہے۔اس مضمون پر بھی میں نے کسی حد تک روشنی ڈالی تھی لیکن اب انتمْتُ عَلَيْهِمْ کے مضمون سے اس تعلق کو جوڑ کر کچھ مزید روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔نعمتوں کا نیا مفہوم خدا تعالی کی حمد کے بیان کے بعد باقی آیات سے گزرتے ہوئے جب ہم یہاں پہنچتے ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتُ عَلَيْهِم که اے خدا! ہمیں ان لوگوں کا راستہ دکھا جن پر تو نے انعام فرمایا تو انعام جن لوگوں پر فرمایا گیا ہے ان کے ذکر کی تفصیل کا ہمیں علم ہونا چاہئیے۔وہ کیا کیا باتیں کیا کرتے تھے۔کون کون سی نعمتیں اور کون کون سے فضل اللہ تعالٰی نے ان پر نازل فرمائے تھے جن کے نتیجے میں ان میں ایک ایسا حسن پیدا ہوا کہ جو خدا کو پسند آنے لگا اور خدا کی آنکھ سے وہ لوگ محمود ہو گئے اور قابل تعریف کہلائے۔اس پہلو سے آپ کو گہری نظر سے قرآن کریم کا مطالعہ کرنا ہو گا اور خدا کے پیاروں انعام یافتہ لوگوں کا جہاں جہاں ذکر ملتا ہے خواہ وہ نبی ہوں یا اس سے ادنی درجے کے انعام یافتہ لوگ ہوں ان کی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کرنا ہو گا کہ کن کن آزمائشوں سے وہ گزرے اور کن کن ٹھوکروں سے بچے کون سے ایسے دو راہوں پر وہ کھڑے ہوئے جہاں ایک طرف انعمت علَيْهِمْ کا راستہ تھا اور دوسری طرف مغضوب علی کا راستہ تھا۔ایک قدم کی لغزش ان کو یا اس راہ پر چلا سکتی تھی جو خدا تعالٰی کے فضلوں کی راہ ہے اور ایک ہی قدم کی لغزش ان کو اس راہ پر بھی ڈال سکتی تھی جو خداتعالی کی طرف سے غضب کی راہ اور ناراضگی کی راہ ہے۔وہاں انہوں نے کچھ فیصلے کئے اور ان فیصلوں کے نتیجے میں ان پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوئیں۔بعض دفعہ بڑی تیلی کی زندگیاں انہوں نے گزاریں۔پس ان مواقع پر ان راہوں پر جہاں خدا کی خاطر تلخی برداشت کرنی پڑی وہ تمام تلخیاں