ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 59
59 ہیں۔جہاں تک دوسرے مفہوم کا تعلق ہے اس کو پیش نظر رکھیں تو نماز آپ کو روزانہ ایک پیغام بھی دے گی اور ایک محاسبہ بھی کرے گی۔جب آپ کہتے ہیں : ایاک نعبد توسب سے پہلے رب العالمین کی صفت آپ کے سامنے آکھڑی ہوگی اور آپ اپنے دل میں یہ سوچیں گے اگر نوچنے کی اہلیت رکھتے ہوں کہ کیا میں بھی رب بننے کی کوشش کرتا ہوں؟ کیا میری ربوبیت کا فیض بھی تمام جہانوں پر ممتد ہے یا ممتد ہونے کی کوشش کرتا ہے؟ یہ ایک سوال اتنا گہرا اور اتنا وسیع سوال ہے کہ اس کے حقیقی جواب تلاش کرنے میں بھی مدتیں درکار ہیں اور اس کو مختلف جگہوں پر باری باری اطلاق کرتے ہوئے پھر اس کا الگ جواب حاصل کرنا ایک بڑی محنت کا کام ہے مگر ایک بہت ہی دلچسپ سیر ضرور ہے۔اپنے اعمال کو ربوبیت کی کسوٹی پر پرکھیں جب انسان کسی ذات کو رب العالمین تسلیم کرتا ہے اور ساتھ یہ اقرار کرتا ہے کہ یہ ایک قابل تعریف بات ہے۔الحمد يثورات العلمين رب العالمین ہونا کوئی برائی کی بات نہیں بلکہ ہر پہلو سے قابل تعریف ہے بلکہ تمام حقیقی تعریفوں کا مستحق رب العالمین ہے تو اگر آپ رب العالمین بنے کی کوشش نہیں کرتے تو آپ جھوٹے ہیں۔یہ منہ کی تعریف محض ہونٹوں سے نکلی ہوئی تعریف ہے اور دل سے اسکا کوئی تعلق نہیں کیونکہ جو چیز آپ کو پسند آئے آپ ویسا ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔پس رب العالمین کہہ کر رب العالمین کا تعلق حمد باری تعالٰی سے باندھ کر ہر بچے عبادت کرنے والے پر فرض ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے دل کی آرزو بن جاتا ہے کہ وہ دیسا بنے کی کوشش کرے۔اب رب العالمین کا مضمون تو بہت ہی وسیع ہے لیکن اپنے گردو پیش سے اگر آپ شروع کریں تو اس کا اطلاق نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔بعض لوگ اپنے بچوں کے لئے رب ہوتے ہیں لیکن دوسروں کے لئے نہ صرف یہ کہ رب نہیں ہوتے بلکہ ربوبیت کے بر عکس اثر دکھاتے ہیں۔ماں اگر بچوں سے پیار کرتی ہے تو وہ بھی ایک ربوبیت کا مظہر ہے لیکن دو ربوبیت خدا کی نظر میں قابل تعریف نہیں ٹھرتی یا قبولیت کی مستحق قرار نہیں پاتی جب وہی ماں اپنے سوتیلے بچوں سے ظلم کر رہی ہوتی ہے۔جب