ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 58

58 ایک لمحے کی ملاقات کے بعد پھر ہمیشہ کے لئے چھٹی۔حالانکہ ملانے والا لمحہ وہ لمحہ ہوا کرتا ہے جو ہمیشہ کے لئے وابستہ کر دے۔جس کے بعد علیحدگی کا کوئی تصور نہ رہے۔پس ایک نماز کا سوال نہیں ہے۔سوال ایک ایسی نماز کا ہے جو آپ کا نماز کے ساتھ ایسا گہرا اور دائمی رشتہ باندھ دے، ایسا تعلق پیدا کردے کہ جو پھر کبھی نہ ٹوٹے۔محبت کے متعلق شعراء کہتے ہیں کہ ایک ہی نظر میں ہو جایا کرتی ہے مگر وہ ایک ہی نظر ایسی تو نہیں ہوا کرتی کہ دوبارہ محبوب کی طرف اٹھنے کی تمنا سے ہی محروم رہے۔ایک نظر سے مراد یہ ہے کہ محبت جب ہو جائے تو پھر ہر نظر اپنے محبوب کو تلاش کرتی ہے اور یہی عرفان الی اور وصل الہی کی حقیقت ہے۔ایک دفعہ جب اللہ تعالٰی سے سچا تعلق پیدا ہو جائے جس کا نماز سب سے بڑا ذریعہ ہے تو پھر یہ تعلق دائمی ہو جایا کرتا ہے اور اس تعلق کی سچائی کا نشان ہی اس کا دوام ہے۔اس لئے میں آپ کو مختلف پہلوؤں سے نماز کے مضمون پر غور کرنے کے طریق بتانے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ ہر شخص اپنے اپنے مزاج کے مطابق وہ طریق اختیار کرے اور عبادت کا صرف فریضہ ادا نہ کرے بلکہ عبادت کی لذت حاصل کرے اور عبادت کے پھل کھائے۔صفت رب العالمین پر غور کریں جب ہم صفات باری تعالیٰ کا ذکر سورۂ فاتحہ کے الفاظ میں کرتے ہیں تو اس کے بعد إيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا ہے۔اس کا ایک مفہوم میں پہلے بیان کر چکا ہوں، اب ایک اور امر کی طرف توجہ دلائی چاہتا ہوں کہ چار بنیادی صفات بیان ہوئی ہیں۔رَبِّ الْعَلَمِنَ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ پس جب ہم إياك نعبد کہتے ہیں تو اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔تیرے سامنے سرجھکاتے ہیں اور اپنے وجود کو تیرے حضور پیش کر دیتے ہیں۔گویا آج کے بعد یہ وجود ہمارا نہیں تیرا ہو گیا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم قدم بقدم تیرے پیچھے چلتے ہیں۔جس طرح ایک غلام آقا کی پیروی کرتا ہے اور اپنی مرضی کا مالک خود نہیں رہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ مالک کی تصویر بن جائے۔جیسا مالک کرتا ہے ویسا ہی وہ کرے تو اس کا نام بھی عہدیت ہے۔پس عبدیت اور عبودیت دو مفہوم عبد کے اندر پائے جاتے