ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 54

54 اور اس کے لئے رحمان کا ہونا ضروری ہے ورنہ آپ روزمرہ کی زندگی میں تو رحمان نہیں بنتے۔مزدور نے جب آپ کا کوئی کام کیا ہو تو بالعموم انسان کم سے کم دے کر پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔اکثر مالکوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ نوکروں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں کہ تمہاری ضرورت پوری ہو گئی۔بس کافی ہے۔تم اس میں رہ سکتے ہو۔سردی سے بچ سکتے ہو، گرمی سے کسی حد تک بیچ سکتے ہو بلکہ واجبی ضرورت بھی پوری نہیں کی جاتی کسی حد تک پوری ہو جائے تو سمجھتے ہیں کہ ذمہ داری ادا ہو گئی۔وہ تو رحمان نہیں کہلا سکتے۔پس تخلیق میں کوئی بھی زندگی کا ایسا ذرہ آپ کو دکھائی نہیں دے گا خواہ وہ زندگی کی کسی نوع سے تعلق رکھنے والا ذرہ ہو جس ذرے کے اندر بھی رحمانیت کا جلوہ نہ دکھائی دیتا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔بتا سکتا نہیں اک پاؤں کپڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اس پہ آسماں ہے سه اب کیڑے کا پاؤں بنانے پر انسان قادر نہیں۔یہ بات آج کے زمانے میں عجیب لگتی ہے جب آپ دیکھتے ہیں کہ ہوائی جہاز ایجاد ہو گئے۔ٹیلی ویژنز ایجاد ہو گئیں ، حیرت انگیز بار یک دربار یک صفات کائنات پر غور کرنے کے نتیجے میں انسان بار یک دربار یک چیزیں بنانے پر قادر ہوتا چلا جا رہا ہے تو کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ مصرعہ اب پرانے زمانے کی بات بن گیا کہ بنا سکتا نہیں اک پاؤں کپڑے کا بشر ہرگز لیکن جب آپ گری نظر سے دیکھتے ہیں تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ بڑی بڑی تخلیق اور عظیم تخلیق اور باریک دربار یک تخلیق کا دعوی کرنے والا انسان بھی آج تک کیڑے کا ایک پاؤں بنانے سے عاجز ہے کیونکہ کیڑے کے ایک پاؤں میں عجیب در عجیب چیزیں بنی ہوتی ہیں۔کپڑے کا ایک پاؤں جس مسالحے سے بنا ہوا ہے جس طرح اس کے اندر انرجی (ENERGY) پہنچانے کا انتظام ہے، جس طرح وہ اپنے ظاہری حجم کے مقابل پر بیسیوں گنا زیادہ وزن اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے۔جس طرح ان کے اندر باریک در بار یک اعصاب ہیں۔جس طرح وہ اس بات کا اہل بنایا گیا ہے کہ