ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 509 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 509

509 ہے وہ مالیہ میں لگا دے گا۔لیکن تجھے میں بر عکس مضمون ہے۔پس حقیقت میں کن تنالوا البر حتى تنفقوا میں تھے ہی کی تعریف کی جا رہی ہے چنانچہ فرمایا حتى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ کہ جب تک تمہیں محبت نہ ہو۔پس محبت ہی کے نتیجے میں تحفہ پیدا ہوتا ہے اور چونکہ تحفہ محبوب کے لئے پیش کیا جاتا ہے اس لئے محبوب کے لئے محبوب چیز پیش کی جاتی ہے۔پس وہ اعمال قبول ہوں گے جو آپ کو محبوب ہوں، جن کو فخر کے ساتھ آپ پیش کر سکیں اور وہ اچھی چیزیں مالی قربانی ہو یا کوئی اور کلمات کے ذریعے خدا تعالیٰ کی حمد کا بیان ہو وہ ساری اچھی چیزیں جو آپ پیش کرتے ہیں ایسے رنگ میں ہوں کہ بھی ہوئی ہوں، آپ کو اچھی لگ رہی ہوں۔آپ کی نظر میں بھی محبوب ہوں۔اس کے بعد یعنی التَّحِيَاتُ اللهِ وَالصَّلَواتُ وَالطَّيِّبات کے بعد انسان کہتا ہے کہ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا و عَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّلِحِينَ - کہ اے نبی ہم تجھ پر سلام بھیجتے ہیں۔یہ سلام در حقیقت تھے ہی کے رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ خدا کو تحفہ دینے کے بعد جو سب سے زیادہ محبوب ہستی ہمیں دکھائی دیتی ہے وہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہستی ہے اور اللہ کو تحائف پیش کرنے کے بعد سب سے زیادہ تھے کا حق اگر کوئی وجود رکھتا ہے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہی کو وجود ہے۔اس سلسلہ میں بعض لوگ نا کبھی سے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو مخالب کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نعوذ باللہ حاضر ناظر ہیں اور حاضر ناظر کو مخاطب کیا جاتا ہے۔اگر یہ دلیل درست ہو تو پھر خدا حاضر ناظر نہیں رہے گا کیونکہ اس مخاطب میں التحیات لک یا اللہ نہیں کہا گیا بلکہ التَّحِيَاتُ لِلهِ وَالصَّلَواتُ وَالطَّيِّبات فرمایا گیا ہے، تو خدا غائب ہو گیا اور محمد رسول اللہ حاضر ہو گئے یہ مضمون تو بالکل ہی اکھڑ جائے گا بے معنی ہو جائے گا۔اس لئے یہاں جو تخاطب ہے وہ اور معنی رکھتا ہے۔بعض دفعہ حاضر کو عزت اور احترام کے نتیجے میں غائب کیا جاتا ہے اور غائب کو بھی عزت اور احترام کے نتیجے میں حاضر کیا جاتا