ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 508
508 قرآن کے ارشاد کے مطابق وہ بھی ایک ہدیہ ہے ایک تحفہ ہے، ایک اچھا نیک عمل ہے خواہ قول بھی اچھا ہو تو وہ بھی نیک اعمال میں شمار ہو جاتا ہے۔پس اگر اس عرصے میں کوئی اور نیک عمل کرنے کی توفیق نہیں ملی تو ذکر الہی کی توفیق ملی ہوگی۔کسی کو نیک نصیحت کرنے کی توفیق ملی ہوگی غیر کو نہیں تو اپنی بیوی اپنے بچوں کو اپنے ساتھیوں کو کوئی اچھی بات کہنے کی توفیق ملی ہوگی اس تمام عرصے میں جو دو نمازوں کے درمیان آپ پر گزرتا ہے کچھ نہ کچھ تحفہ آپ نے ضرور بناتا ہے اور وہی تحفہ ہے جو خدا کے حضور پیش کیا جائے گا۔پس اگر اس پہلو سے سوچتے ہوئے جب آپ نماز میں التَّحِيَاتُ لِلهِ وَالصَّلَواتُ وَالطَّيِّبَات کہتے ہیں تو بسا اوقات دل کانپ جائے گا کہ ہم خالی ہاتھ آئے ہیں اور بات یہ کر رہے ہیں کہ اے خدا! ہم تیرے حضور تحفہ پیش کرنا چاہتے ہیں اور تھے بھی ایسے ہیں جو جمع کی صورت میں ہیں یعنی تحائف پیش کر رہے ہیں۔وَالصَّلَوتُ : نیک اعمال کے ذریعے بدنی قربانیوں کے ذریعے بھی والطيبات اور اچھی چیزیں پیش کر کے بھی۔پس اس مضمون کو سمجھنے کے بعد التحیات کا پیغام بہت ہی وسیع ہو جاتا ہے اور زندگی کے ہر دائرے پر حاوی ہو جاتا ہے۔روز مرہ کی نمازوں میں نیکیاں بھرنے کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ اللہ کے حضور وہی نیکیاں قبول ہونگی جو تحائف کا رنگ رکھتی ہوں گی اس کے بغیر نہیں۔چنانچه لن تنالوا البِر حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ میں دراصل یہی پیغام ہے جو دیا گیا ہے کہ نیکی کی تعریف ہی تم نہیں سمجھتے اگر تمہیں یہ پتہ نہ ہو کہ جو کچھ خدا کے حضور پیش کرتے ہو، وہ کرو جو سب سے اعلیٰ ہو۔اگر تمہیں سب سے اچھا پیش کرنے کا مزاج نہیں ہے۔اگر تمہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ خدا کے حضور سب سے اچھا پیش کرنا چاہیے تو تمہیں نیکی کی تعریف کا علم نہیں ہے۔پس نیکی کی تعریف اور تحفے کی تعریف ایک ہی ہوگی کیونکہ تحفے میں بھی انسان اچھی چیز چن کر پیش کیا کرتا ہے جبکہ TAX میں بری چیز چن کر پیش کیا کرتا ہے۔اگر مالیہ وصول کرنے والے گندم کی شکل میں مالیہ وصول کرنے آئیں تو کبھی زمین دار یہ نہیں کرتا کہ بہترین گندم چن کر وہ مالیہ والوں کے سپرد کر دے۔جو سب سے ذلیل ، پانی میں ڈوبی ہوئی یا کالی ہوتی ہوئی گندم