ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 507
507 اور تھے کے مزاج بگاڑنے والی بات ہوگی۔پس خدا تعالیٰ سے تعلقات کے وقت یہ سودا پیش نظر نہ رکھا کریں کہ ابھی میں نے دیا اور کل مجھے زیادہ مل جائے گا بلکہ یہ خیال کیا کریں کہ خدا کی راہ میں دینا چاہئیے اس کی استطاعت نہیں رکھتے اور تحفہ پیش کرنے کو دل چاہتا ہے اور تھنے کے مقابل پر اگر کوئی واپسی کی بات کرے تو اس سے بھی انسان شرم سے کٹ جاتا ہے تو اس نیت سے خدا کے حضور پیش کرنا چاہیے کہ میں دے رہا ہوں اور شرم کے ساتھ دے رہا ہوں کہ جتنی توفیق ہے اس کے مطابق دے رہا ہوں ور نہ حق یہ تھا کہ اس سے بہت زیادہ دیا جاتا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ اسے قبول کرے اور دنیا میں فورا واپس نہ کرے تو یہ خیال دماغ میں پیدا ہو جانا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ چندے میں بڑی برکت پڑتی ہے لیکن ہمیں تو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا، بہت ہی گھٹیا اور لمینی بات ہوگی اور یہ تحفہ نہیں رہے گا اور چونکہ تحفہ نہیں رہے گا اس لئے قبول بھی نہیں ہوگا کیونکہ التحیات نے ہمیں بتایا ہے کہ تھتے ہی ہیں جو قبول ہوں گے ، باقی چیزیں نہیں ہونگی۔اگر تحفہ پیش کرتے ہو تو منظور ہے۔تحفہ نہیں تو پھر تم اپنے کام سے کام رکھو خدا اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔تمہارے ساتھ ان قربانیوں کے نتیجے میں خدا سے تمہارا تعلق قائم نہیں ہو گا۔دوسری بات التحیات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ روزانہ ہم خدا کے حضور پانچ وقت جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوتُ وَالطَّيِّبَاتِ تو کوئی پہلے تھے تو دوبارہ نہیں دیا کرتا۔آخر ہم پانچ وقت کی ہر نماز میں بعض دفعہ ایک سے زیادہ دفعہ جب خدا کے حضور یہی بات پیش کرتے ہیں کہ التَّحِيَاتُ لِلَّهِ وَالقُلُوتُ والطلبات تو اس کا یہ مطلب تو بہر حال نہیں ہو سکتا کہ ہم نے ایک دفعہ جو نیکیاں کر دیں، ایک دفعہ جو قربانیاں خدا کے حضور پیش کیں انہیں کو بار بار تحفہ بنا کر دے رہے ہیں کیونکہ دنیاوی تعلقات میں تو انسان ایسا نہیں کرتا۔اگر ایسا کرے تو بہت ہی پاگل اور احمق دکھائی دے گا۔پس نماز پانچ وقت یہ پیغام دیتی ہے کہ دو نمازوں کے دوران تم نے کوئی نیکی کی ہے کہ نہیں۔اگر دو نمازوں کے دوران کوئی اچھا نیک قول بھی تم نے کہا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اور