ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 499
499 موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے عشق میں نثر میں بھی اور نظم میں بھی یہ مضمون بیان فرمایا کہ تو خدا تو نہیں ہے لیکن خدا نما ایسا ہے کہ کبھی ایسا خدا نما نہیں دیکھا گیا۔تجھے دیکھا تو خدا کو دیکھ لیا یہ شرک کا جملہ نہیں ہے بلکہ عدم شرک کا جملہ ہے۔اس کی گہرائی کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں بعض دفعہ لوگ دھو کہ کھا جاتے ہیں محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) خدا نما اس لئے بنے کہ اپنے وجود کو مٹا دیا۔لاالہ کے مضمون کو اپنی ذات میں مکمل کر دیا۔یہ نہیں کہا کہ اے خدا! تیرے سوا اور میرے سوا دنیا میں جتنے ہیں وہ کچھ بھی نہیں ہیں اور بالعموم لوگ جب یہ کہتے ہیں کہ لااله الا الله تو در حقیقت میں اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ اے خدا تیری ذات ہے اور میری ذات ہے باقی سب کچھ نہیں لیکن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و سلم نے اپنی ساری زندگی کے ذریعہ یہ مضمون ظاہر فرمایا کہ میں بھی نہیں ہوں۔سوائے خدا کے کچھ بھی نہیں ہے۔جب آپ نے اپنی ذات کو مٹا دیا تو اس برتن میں پھر خدا ظاہر ہوا ہے اور محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہر حرکت میں اور ہر سکون میں اللہ جلوہ گر ہوا۔پس یہ شرک کا مضمون نہیں ہے بلکہ توحید کامل کا مضمون ہے اور سبحان ربی الاعلیٰ ہمیں اس مضمون کی یاد دلاتا ہے کہ اگر تم اعلیٰ ہو اور تم کہتے ہو کہ میرا رب اعلیٰ ہے تو اپنے اندر سے سفلی صفات دور کرو کیونکہ جو سفلی صفات کا بندہ ہے وہ رب اعلیٰ کا بندہ تو نہیں بن سکتا۔اس لئے ایک دن کے سجدے کی بات نہیں ، ساری زندگی کی جدوجہد کا معالمہ ہے۔کیا ایک دن میں کیا ایک سال میں کیا دس یا ہیں یا سو سال میں بھی انسان ہر قسم کی سفلی صفات سے مبرا ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔پس یہ ایک ایسا جاری مضمون ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا لیکن یہ حرکت ہمیشہ اونی حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف جاری رہے گی اور یہ حرکت تب جاری ہوگی جب آپ کے اندر عجز پیدا ہوگا اور عجز کا ایک نیا مقام آپ کو عطا ہو گا۔پس ہر سجدے کو آپ کا عجز بڑھانا چاہیئے ہر سجدے کے نتیجہ میں آپ کو اپنی بے بضاعتی اور بے بسی کا مزید احساس پیدا ہونا چاہیے۔اس احساس اور خلاء کو خدا کا علو بھرتا چلا جائے گا اور آپ کے اندر سے ایک نیا وجود پیدا ہوتا چلا جائے گا۔یہ ہے سجدوں کا مضمون اور