ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 490
490 کروٹ بدلتے ہیں تو اس کی بھی یہی وجہ ہے کیونکہ جس پہلو پر آپ لیٹے رہتے ہیں کچھ عرصے کے بعد وہاں تکلیف شروع ہو جاتی ہے اور تکلیف سے بھاگنے کے لئے آپ حرکت کرتے ہیں۔وہ لوگ جن کو انتہائی پر سکون نیند آتی ہے وہ ایک ہی کروٹ پر پڑے رہتے ہیں۔کیونکہ نیند کے غلبے کی وجہ سے ان کو یہ احساس نہیں رہتا کہ ایک پہلو پر لیٹے لیے ان کو تکلیف شروع ہو چکی ہے۔بہرحال انسان کی زندگی کے جس پہلو پر خواہ وہ ادتی ہو یا اعلیٰ ، آپ غور کر کے دیکھیں آپ کو یہی معلوم ہوگا کہ جب آپ جگہ بدلتے ہیں یا حالت بدلتے ہیں تو ہمیشہ یا خوف اور تکلیف سے بچنے کے لئے یا کسی خواہش اور تمنا کو پورا کرنے کے لئے اللہ اکبر کا اعلان ہر حرکت کے وقت آپ کو یہ بتاتا ہے کہ خدا سب سے بڑا ہے۔اس سے بھاگ کر تم کہیں نہیں جاسکتے اور اگر تم نے کسی حالت سے کسی اور حالت کی طرف منتقل ہوتا ہے تو ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔جو چھوٹا ہے اس سے بڑے کی طرف جانا چاہیے اور زندگی کی ہر حرکت اس غرض سے ہو کہ تم اس ذات کے قریب تر ہوتے چلے جاؤ جو اکبر ہے۔یہ بہت ہی گہرا اور وسیع مضمون ہے۔اس کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اشارہ کافی ہے۔اس مضمون پر جب نماز پڑھنے والا غور کرے گا تو اس کے لئے اور بھی مضامین کی کھڑکیاں کھلتی چلی جائیں گی اور نماز کی یا ہر کی حالت بھی عبادت بنتی چلی جائے گی کیونکہ اللہ اکبر کا پیغام نمازی کے لئے صرف نماز کی حالت میں پیغام نہیں بلکہ ساری زندگی کا پیغام ہے اور حرکت و سکون کا تمام فلسفہ اس میں بیان ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس اس کی اطاعت کے لئے ہے پس نماز کی حالت میں اس پہلو سے اس مضمون پر غور کرنے کے نتیجے میں زندگی کے دیگر مسائل بھی خدا کے فضل کے ساتھ احسن رنگ میں حل ہوتے چلے جائیں گے۔اس کے بعد رکوع کی حالت ہے اس میں ہم سُبْحَانَ رَنِي الْعَقِيمِ پڑھتے ہیں۔اکثر لوگ غفلت کی حالت میں یہ پڑھتے ہوئے گزر جاتے ہیں ان کو علم نہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔اس مضمون پر دو تین پہلو خاص طور پر توجہ کے لائق ہیں اول یہ کہ عظیم کے کیا معنی ہیں۔عظیم کے معنی بڑا ہے۔کن معنوں میں پڑا؟ اکبر میں بڑائی