ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 486 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 486

486 اس مضمون پر کوئی نئی روشنی نہ ڈالتے ہوں۔اس لئے کہیں بھی محض بمرار نہیں ہے بلکہ ہر تکرار کے ساتھ کچھ حکمتیں ایسی پوشیدہ ہیں جو پہلے موقعہ پر بیان نہیں ہوئی تھیں یا ان کے بعض پہلو بیان نہیں ہوئے تھے۔چنانچہ یہاں بھی یہی بات ہے۔لعلي اعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ خَلا کہہ کر بظاہر وہی باتیں پیش کی گئی ہیں جو پہلے بھی کئی دفعہ پیش ہو چکی ہیں مگر اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ومن ورائهة برر إلی یومِ يُبْعَثُونَ اور ان کے درمیان ایک پردہ ہو گا جو قیامت کے دن تک لڑکا رہے گا۔کن کے درمیان پردہ ہے؟ یہ بحث ہے۔ایک مضمون تو یہ ہے کہ مستقبل میں جو ان کے لئے ظاہر ہونا ہے وہ پوری طرح ان کو دکھائی نہیں دے گا اور ایک پردہ ہو گا لیکن جب مزید غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اعمال صالحہ کے درمیان اور ان کے درمیان ایک پردہ ہے جو کبھی بھی نہیں اٹھایا جائے گا اور انہیں اعمال صالحہ کی توفیق مل ہی نہیں سکتی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں اگر کوئی شخص بدی کی حالت میں اٹھایا جاتا ہے تو جس حد تک اس کے بچنے کا امکان تھا وہ امکان اس کو مہیا کیا جا چکا ہے۔اور جس شخص کو ابھی اور بھی آزمائش میں ڈالنا ہو اور ابھی اس کی صلاحیتیں پوری طرح استعمال نہ ہوئی ہوں اور یہ امکان ہو کہ ابھی کچھ اور امتحان باقی ہیں تو ایسے شخص کو اگر وہ بد ہے بدیوں میں لمبی زندگی ملتی ہے اور اگر وہ نیک ہے تو نیکی میں اور لمبی زندگی ملتی ہے لیکن کوئی شخص اس وقت تک نہیں مرتا جب تک وہ اپنی نیکی یا بدی کی کیفیتوں میں اس حد تک آزمایا نہ جا چکا ہو کہ جس کے بعد یقین سے یہ کہا جا سکتا ہو کہ اب اس کے بعد اگر اس کو لاکھ سال کی زندگی بھی ملے تو اس کے اندر تبدیلی پیدا نہیں ہوگی۔اگر کروڑ سال کی زندگی بھی ملے تو اس کے اندر تبدیلی پیدا نہیں ہوگی۔یہی مضمون ہے جو اللہ تعالٰی نے وَمِن وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْهِ يُبْعَثُونَ۔میں فرمایا ہے کہ زندگی کی حد تک ہم نے ان کو دیکھ لیا۔یہ جو کہتے ہیں ہمیں دوبارہ موقعہ ملے گا تو ہم نیک اعمال کریں گے۔یہ سب بکواس جھوٹ ہے، منہ کی باتیں ہیں۔قیامت تک یہ لوگ اب نیکی کی توفیق نہ پانے والے ہیں تب ہم نے ان کو ایسی حالت میں اٹھایا ہے اور پھر اس مضمون کو آگے بڑھا کر فرمایا۔فاذا نيفتوني