ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 487 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 487

487 الصُّورِفَلا اَنَا بَيْنَهُمْ يَوْمَ لا لوت ان کے اور ان کے نیک ساتھیوں کے درمیان کوئی رشتہ بھی باقی نہیں رہے گا جس طرح ان کے اور ان کے اعمال کے درمیان کوئی رشتہ نہیں اسی طرح ان کے اور ان کے وہ رشتے دار جو نیک تھے ان کے درمیان کوئی رشتہ اب دوبارہ قائم نہیں ہو گا بلکہ ان کے بدوں کے ساتھ رشتے رہیں گے اور جس طرح یہاں انسان اپنے نیک ساتھیوں کے بھی حال پوچھ لیا کرتا ہے اولاد ہو یا ماں باپ ہوں یا عزیز ہوں، اقرباء ہوں نیک اور بد اکٹھے رہتے ہیں لیکن یہاں مرنے کے بعد فرمایا کہ بدوں اور نیک کی دنیا الگ کر دی جائے گی اور وہ ایک دوسرے کے حال پوچھنے کی بھی توفیق نہیں پائیں گے سوائے اس کے کہ قرآن کریم میں بعض جگہ نمونة " خدا تعالٰی سے استدعا کی گئی ہے کہ ہمیں ان لوگوں کا حال بتا اور خدا تعالیٰ ان کو توفیق دے گا کہ نمونہ دوسرا حال دیکھ لیں۔وہ ایک الگ مضمون ہے جو استثناء کے طور پر ہے اور اس آیت میں عمومی مضمون ہے جو بیان ہوا ہے۔