ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 481 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 481

481 آنکھ، ناک، وغیرہ وغیرہ یہ جتنے بھی حواس خمسہ کے دروازے ہیں ان پر اگر انسان قابو پائے اور ان کو خدا کے سپرد کر دے تو پھر اندر کے دو دروازے بھی واقعہ "خدا کے سپرد ہو جاتے ہیں یعنی ذہن کا دروازہ اور دل کا دروازہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ایسے لوگ وہ ہیں جو مخلصین ہیں۔جن کو اللہ کے لئے خالص کر دیا گیا ہے ان پر کسی ابلیس کو کوئی تسلط نہیں ہو سکتا۔یہ مضمون سمجھنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ کتنا مشکل کام ہے اور خدا تعالیٰ نے صراط مستقیم کی یہ تعریف فرمائی ہے کہ یہ صراط مستقیم ہے جہاں یہ سب کچھ ہوتا ہے اور روز پانچ وقت پانچ نمازوں میں ہر رکعت میں ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں صراط مستقیم پر چلا۔کیسی صراط مستقیم ہے جہاں نیک بھی چلتے ہیں 'بد بھی چلتے ہیں ٹھوکریں کھانے والے لوگ بھی ہیں ، بیچ کر نکل جانے والے لوگ بھی ہیں۔اکثر وہ ہیں جو رستہ کھو دیں گے۔کم وہ ہیں جو خوش نصیب ہیں اور جو آخر منزل تک پہنچیں گے ان بد دعاؤں سے ہمیں متنبہ کیا جو مغضوب علیہم اور ضالین کی دعائیں ہیں لیکن وہ بھی آپ کو صراط مستقیم پر ہی ملتے ہیں لیکن وہ صراط جو سیدھی خدا تک پہنچا دیتی ہے وہ عِباد الله المُخلصین کی راہ ہے اور انہیں کی دعائیں کرتے ہوئے ہمیں ان رستوں پر آگے بڑھنا چاہیے اور جو جو ٹھوکریں خدا تعالیٰ نے ہم پر کھول دی ہیں ان سے بچنے کی کوشش کرتے رہنا چائیے لیکن اس یقین کے ساتھ کہ اپنی کوشش سے کوئی انسان نیک نہیں ہو سکتا جب تک دعا کے ذریعے اسے توفیق نہ ملے اور دعا کی قبولیت کے لئے ضروری ہے کہ دل سے ایک خالص آواز اس دعا کی قبولیت کے لئے اٹھے۔عام دعاؤں کے لئے تو دل سے خالص آوازیں آسانی سے اٹھ جاتی ہیں مگر نیکی کی دعا کے لئے دل کی خالص آواز کو بلند کرنا بہت مشکل کام ہے یہ بات میں آپ کو اچھی طرح سمجھا دینا چاہتا ہوں۔آپ اگر یہ دعا کریں کہ ہمارا بچہ ٹھیک ہو جائے تو دل سے نکلے گی۔یہ دعا کریں کہ اے خدا ہمیں اس بلا سے نجات بخش دے۔ہمیں اس طوفان سے بچالے تو دل سے اٹھے گی۔چنانچہ قرآن کریم نے جیسا کہ میں نے پہلے دو خانوں میں ذکر کیا ان دعاؤں کی قبولیت کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں پتہ تھا کہ بعد میں یہ لوگ مکر جائیں گے لیکن اس وقت دل سے دعا کر رہے تھے۔ایک مضطر کی دعا تھی اور ہم نے اس کو قبول کر