ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 480
480 جنت اور جہنم کے سات دروازوں کا مطلب اس گہری انسانی فطرت کے راز کو سمجھنے کے بعد ایک انسان شیطانی اثرات سے یا ابلیسی اثرات سے بہتر رنگ میں بچ سکتا ہے اور پھر مزید اس بات کو واضح فرما دیا کہ یہاں فطرت انسانی کی بات ہو رہی ہے۔فرمایا : جنم جس میں یہ لوگ داخل کئے جائیں گے لها سبعة آبواب اس کے سات دروازے ہیں۔جنت کے بھی سات دروازے بتائے گئے ہیں اور جہنم کے بھی سات دروازے بنائے گئے ہیں۔اس ضمن میں ربوہ میں آغاز کے سالوں میں میں نے ایک مرتبہ ایک خطبہ دیا تھا جس میں سمجھایا تھا که ان دروازوں سے کیا مراد ہے۔پانچ تو حواس خمسہ ہیں۔کان کا دروازہ ، آنکھ کا دروازه قوت شامہ کا دروازہ مزے کا دروازہ اس کا دروازہ وغیرہ وغیرہ۔یہ پانچ سوراخ ایسے ہیں جن کے ذریعے انسان بیرونی دنیا سے رابطہ کرتا ہے۔اگر ان دروازوں پر پہرے نہ بٹھائے گئے ہوں تو جہاں بھی کمزوری ہوگی وہاں سے کوئی اچکا داخل ہو سکتا ہے کوئی چور آسکتا ہے۔پس جو لوگ ان دروازوں کی حفاظت کریں وہ خدا کے فضل کے ساتھ امن میں رہتے ہیں لیکن دو دروازے اندر بھی ہیں ان میں سے ایک دماغ کا دروازہ ہے اور ایک دل کا دروازہ ہے اور یہ دونوں دروازے ایسے ہیں جو تمام پانچوں اثرات کو قبول کرتے یا رد کرتے ہیں اور اثرات کے نتیجے میں ان کی اپنی ایک شخصیت پیدا ہوتی ہے۔ایک شخصیت ذہنی قابلیتوں کی شخصیت ہے، ایک شخصیت جذباتی قابلیتوں کی شخصیت ہے۔اور یہ دونوں چیزیں بیرونی اثرات سے رفتہ رفتہ بنتی ہیں اور اندرونی قابلیتوں کے اوپر جب بیرونی اثرات اپنی روشنی ڈالتے ہیں تو ان کے نتیجے میں اندر سے ایک روشنی پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح جب بیرونی اندھیرے اندر کے اندھیروں پر اپنا اثر ڈالتے ہیں تو اندر سے ایک اور تاریکی پیدا ہوتی ہے۔پس ذہنی تاریکیاں ہوں یا قلبی تاریکیاں ہوں۔ذہنی روشنیاں ہوں یا قلبی روشنیاں ہوں، یہ دو دروازے ہر انسان کے اندر کھلے رہتے ہیں۔پس قرآن کریم نے جب فرمایا کہ سات دروازوں سے تم لوگ جہنم میں داخل کئے جاؤ گے تو مراد یہ ہے کہ اندر کے شیطان انسانی نفس کے ساتھ لگے ہوئے جو شیطان ہیں یہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ان میں سے زبان