ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 45

45 اور رحمان پر غور کرنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایسی ذات ہے (بے شمار اور بھی معافی ہیں لیکن ایک بڑا نمایاں معنی یہ ہے کہ) جس نے محض ضرورت سے بہت بڑھ کر دیا۔محض ضرورت تو یہ ہے مثلاً کہ ایک انسان کی بھوک مٹ جائے اور اس کی غذاء اس لحاظ سے مکمل ہو کہ اس کو زندگی کے قیام کے لئے اور زندگی کی نشوونما کے لئے جن کیمیائی اجزاء کی ضرورت ہے وہ اسے مناسب شکل میں مہیا ہو جائیں۔یہ زندگی کی محض ضرورت ہے اور یہ ضرورت بعض دفعہ ڈریس کی صورت میں بھی جس کے ذریعے مریضوں کو خوراک پہنچائی جاتی ہے انسان کو مہیا ہو جاتی ہے ایسے کنٹریس کی صورت میں یعنی ایسی غذاؤں کے خلاصے کی شکل میں بھی انسان کو مہیا ہو جاتی ہے جس میں مزا کوئی نہیں ہوتا یا ہوتا ہے تو معمولی سا ہوتا ہے اور ضرورت پوری ہو جاتی ہے تو اگر خدا تعالیٰ نے کائنات کو بعض ضرورتوں کی خاطر پیدا کرنا تھا تو محض اس طرح بھی پیدا فرما سکتا تھا کہ ہر چیز کی ضرورت پوری ہو جائے اور خدا نے تخلیق کا گویا حق ادا کر دیا لیکن ہر جگہ آپ کو رحمانیت جلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔حواس خمسہ پر آپ غور کر کے دیکھیں یہ تو ہر انسان کے بس میں ہے اس کے لئے کسی علم کی ضرورت نہیں۔ہر انسان سے مراد وہ ہے جسے حواس خمسہ عطا ہوں۔اور اگر حواس خمسہ عطا نہ ہوں تو چار حواس تقطا ہوں تو ان کے ذریعہ بھی انسان اس قسم کی معرفت تک رسائی حاصل کر تین ہوں تو ان کے ذریعے بھی انسان اپنی توفیق کے مطابق خدا تک پہنچ سکتا ہے مگر حواس خمسہ ہوں یا چار حواس ہوں یا تین ہوں یا دو ہوں یا ایک زندگی میں کوئی ایسا زندگی کا حصہ آپ کو دکھائی نہیں دے گا جو جو اس سے عاری ہو اور اگر حواس سے عاری ہے اورہ موت ہے۔پس انسان ہی نہیں اس کی اونی حالتیں بھی جو اس کے ذریعے خدا تک پہنچتی ہیں اور جہاں تک انسان کا تعلق ہے اگر وہ محض اس پہلو سے غور کرے کہ میری ہر جس میں اللہ تعالیٰ نے محض ضرورت پوری نہیں فرمائی بلکہ اس سے بہت بڑھ کر رکھا ہے۔ناک کی خوشبو کی یا بو کے احساس کی ضرورت ہے وہ اس لئے ہے کہ بعض زہریلی اور گندی چیزوں سے انسان بیچ سکے لیکن اس میں لذت کیوں رکھ دی۔۔بعض چیزوں میں لذت کیوں رکھ دی گئی ؟ سوال تو یہ ہے۔اس کے بغیر بھی کام چل سکتا ہے۔