ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 470
470 میں جب بدن کی نجات کا ذکر ہے تو اس سے میں نے یہ استنباط کیا کہ ایسی زندگی مراد ہے جو روج سے عاری ہو جیسے انگریزی میں Zombie کہا جاتا ہے۔بعض ایسے لاش نما انسان ہوتے ہیں جن کی زندگی روحانیت سے کلیتہ "عاری اور روح سے عاری ہوتی ہے۔انگریزی میں لفظ Zombie تو ظاہری روح کے بغیر زندگی کا تصور پیش کرتا ہے لیکن نُنَجِيكَ يبريك میں جو مضمون ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ہم تجھے زندگی تو دے دیں گے مگر نجات نہیں دیں گے اور روحانیت سے عاری زندگی ہوگی۔اس ضمن میں باقی آیات جن میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے عرق کا ذکر ہے کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ سوائے ایک موقعہ کے ہر دوسری جگہ بنو اسرائیل کو نجات دینے اور ان کی پیروی کرنے والے ان کے پیچھے آنے والے فرعون کے لشکر کے فرق کا ذکر ہے لیکن ایک جگہ خود فرعون کے فرق کا بھی ذکر ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس موقعہ کے ساتھ اس مضمون کا کہیں تضاد تو نہیں جو میں بیان کر رہا ہوں۔سورۂ بقرہ میں ہے کہ واد فَرَقْنَا بِكُمُ البَحْرَا جَيْنَكُمْ وَاغْرَقْنَا الَ فِرْعَوْنَ وَانْتُمْ تَنْظُرُونَ (بقره : ۵۱) یعنی ہم نے آل فرعون کو غرق کر دیا اور تم دیکھ رہے تھے۔پھر سورہ انفال میں بھی واغرقنا ال فرعون کا ذکر ہے۔پھر سورة الشعراء میں وَانْجَيْنَا مُوسَى وَ من مَعَهُ أَجْمَعِينَ ثُمَّ غَرَقْنَا الأخرين (الشعراء : ٢٢-١٧) اسی طرح الزخرف میں بھی یہی مضمون ہے۔مختلف جگہ جہاں بھی فرعون اور اس کے ساتھیوں کے عرق کا ذکر ملتا ہے سوائے ایک سورۃ الاسراء کے باقی جگہ صرف فرعون کے ساتھیوں یا فرعون کی قوم کے فرق کا ذکر ہے۔سورۃ الاسراء میں یہ ذکر ہے۔فافرَقْلَهُ وَمَنْ مَعَهُ جَمِيعًا (الاسراء : ۱۰۴) اور ہم نے فرعون کو اور اس کے ساتھ جو بھی تھے سب کو غرق کر دیا۔"غرق" سے مراد ڈوب کر مر جانا نہیں۔اب سوال یہ ہے کہ ایک جگہ خدا تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم نے اس کو غرق کر دیا۔دوسری جگہ فرماتا ہے جب غرق قریب آیا اور اس نے دعا کی تو ہم نے اس سے بدنی