ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 42

42 والسلام نے اس مضمون کو نماز کے متعلق یوں بیان فرمایا کہ دیکھو نمازیں جو تم پڑھتے ہو ان میں الفاظ وہی ہیں جو سب پڑھتے ہیں لیکن کیفیتیں الگ الگ ہوتی ہیں اور کوئی نماز فائدہ نہیں دے سکتی جب تک تم اس کو اپنی کیفیت سے نہ بھرو - کیفیت سے بہتر اور کوئی لفظ اس منظر کی تصویر کشی نہیں کر سکتا، اس صورت حال کو بیان نہیں کر سکتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لفظ کیفیت رکھ کر تمام مضامین کو یہاں مجتمع کر دیا۔کیفیت اس آخری احساس کا نام ہے جو مختلف چیزوں سے پیدا ہوتا ہے اور اس کا خلاصہ کیفیت ہے اگر سائنسی زبان میں ہم اس کی بات کریں تو اگرچہ ہم مختلف تصویریں دیکھ رہے ہوتے ہیں یا مناظر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔خوشبو میں سونگھ رہے ہوتے ہیں س سے لذت پا رہے ہوتے ہیں اور اسی طرح حواس خمسہ ہمارے لئے مختلف قسم کے دل کشیوں کے سامان لاتے ہیں لیکن آخری صورت میں وہ الیکٹریکل PULSES ہیں جن میں تبدیل ہوتے ہیں۔اور بجلی کی وہ لہریں ہی ہیں جو ہمارے دماغ تک پہنچتی ہیں وہاں نہ رنگ پہنچتا ہے نہ خوشبو پہنچتی ہے نہ اس سے کچھ حصہ وہاں پہنچتا ہے نہ نمک کا احساس نہ میٹھے کا احساس۔جو کچھ پہنچتا ہے وہ بجلی کی لہروں کی صورت میں پہنچتا ہے۔اس کا نام کیفیت ہے جو انسان محسوس کرتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز میں لذت پیدا کرنے اور افادیت پیدا کرنے کے لئے ہمیں یہ نسخہ عطا فرما دیا کہ وہ نمازیں جن میں کچھ کیفیت شامل ہوگی وہ کار آمد نمازیں ہیں۔وہ نمازیں جو کیفیت سے خالی ہوں گی ان سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور وہ ایسے برتنوں کی طرح ہیں جن میں کچھ بھی بھرا نہیں ہوا۔پس نمازوں میں کیفیت پیدا کرنے کی خاطر میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ کون سی چیزیں کیفیت پیدا کرنے کے لئے میں ہوتی ہیں۔کیفیت از خود پیدا نہیں ہو جاتی کیفیت کے لئے حواس خمسہ سے مدد لینا ضروری ہے اور حواس خمسہ جو پیغامات پہنچاتے ہیں وہ پیغامات دماغ کے مختلف حصوں پر اثر انداز ہو کر کیفیت پیدا کرتے ہیں۔پس علم بڑھانا اور گہری نظر سے کائنات کا مطالعہ کرنا۔خدا تعالیٰ سے شناسائی حاصل کرنا اور حواس خمسہ جو خدا نے عطا فرمائے ہیں ان کے ذریعے خدا کی حمد تک