ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 433 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 433

433 جعلوا ا صَابِعَهُمْنِ أَذَانِهِمْ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دیں۔واسْتَغْشَواثِيَابَهُمْ اور اپنے سروں پر اور اپنے کانوں پر کپڑے لپیٹ لئے۔وا صَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا۔اور انہوں نے ضد کی کہ ہم ہرگز نہیں مائیں گے اور بہت بڑے تکبر سے کام لیا۔لیکن اس کے باوجود میں ان سے مایوس نہیں ہوا۔میں انہیں تیری راہوں کی طرف بلاتا رہا۔جس جس طرح مجھے خیال گزرا که شاید اس طرح یہ لوگ مان جائیں۔میں ویسے ہی طریق اختیار کرتا چلا گیا۔یہ سننے کے بعد انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ اب اس کے بعد کوئی دعوت کی راہ باقی رہی ہوگی۔آپ کے ساتھ کوئی ایسا سلوک کرے کہ کانوں میں انگلیاں ڈالے۔سر اور منہ پر کپڑے لیٹے اور بار بار ضد اور تکبر سے کہے کہ جاؤ جو کرنا ہے کر لو میں ہرگز تمہاری بات نہیں سنوں گا تو آپ کہیں گے ہر راہ ختم ہو گئی ہے مگر حضرت نوح" اس ذکر کو جاری رکھتے ہیں کہتے ہیں۔ت اني دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا - پھر مجھے خیال آیا کہ بعض دفعہ کھلے کھلے اعلانوں سے بعض لوگ سن لیتے ہیں۔مخفی باتوں سے نہیں سنتے تو میں نے بازاروں میں نکل کر بلند آواز سے لوگوں کو بلانا شروع کیا۔پھر میں نے خوب کھول کھول کر اور اعلان کر کر کے ثُمَّ إني أعْلَنْتُ لَهُمْ اور میں نے مخفی طور پر اشاروں وا سررت لهم إشرارًا - ان کو بلایا۔کنایوں سے بھی ان کو پکارا کہ آؤ خدا کی طرف آجاؤ۔فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إنه كان غفارا اور میں ان کو بتاتا چلا گیا کہ تمہارا رب بہت ہی مہربان ہے۔بہت ہی بخشش کرنے والا ہے۔اس سے بخشش مانگو تاکہ تم بخشے جاؤ۔تیزول السَّمَاء عَلَيْكُمْ مُدْرَارًا - وہ تم پر نعمتوں کی بارشیں برساوے گا۔: اور وہ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّتٍ وَيَجْعَلَ لَكُمْ آنهرًا - تمہارے لئے تمہارے اموال میں برکت دے گا اور تمہاری اولادوں میں برکت دے گا اور تمہیں وہ ہمیشگی کے باغات عطا فرمائے گا۔وَيَجْعَل لكم انهوا - اور تمہارے لئے نہریں جاری فرمائے گا۔مَا لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلهِ وَقَارًا - تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم خدا کی طرف حکمت کی باتیں منسوب نہیں کر رہے۔۔}