ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 39

39 إياكَ نَسْتَعِين مجھ سے ہی مدد مانگتے ہوئے۔اگر تیری مدد نصیب نہ ہو تو ہم نہیں کر سکتے۔میں نے آپ کو بتایا کہ یہاں عبادت میں حمد کا مضمور ، داخل ہے۔کچی حمد کے بغیر عبادت کا حق ادا ہو ہی نہیں سکتا اور بچی حمد عبادت کے ساتھ نہ ہو تو اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا قبول نہیں ہو سکتی۔کیونکہ حمد کا قبولیت دعا سے گہرا تعلق ہے چنانچہ اسی مضمون کو ہم رکوع سے اٹھتے وقت جو کلمہ کہتے ہیں وہ کھول دیتا ہے۔وہ کلمہ یہ ہے : سمع اللهُ لِمَنْ حَمِدَ اللہ اس کی سنتا ہے جو اس کی حمد کرتا ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُو إيَّاكَ نَسْتَعِيْن میں ہمیں میں تو بتایا گیا تھا کہ خدا سے یہ عرض کرد کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اس لئے تجھے ہی سناتے ہیں کہ اے خدا ! ہماری مدد کو آ۔ہماری دعا قبول کر لیکن عبادت حمد سے خالی نہیں ہونی چاہیے۔ورنہ یہ دعا نا مقبول ہو جائے گی۔مضمون کو سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَ ا نے کھول دیا کہ اللہ سنتا ضرور ہے مگر انکی سنتا ہے جو اسکی حمد کرتے ہیں۔حمد کے ذریعے تعلق قائم ہوتا ہے۔پس خدا سے حمد کا تعلق قائم کریں۔اپنی روز مرہ کی زندگی میں یہ تعلق بڑھائیں۔پھر عبادت میں جب اس کے حضور حاضر ہوں گے تو آپ کو ہر عبادت کے وقت ایک قریب تر آیا ہوا خدا دکھائی دے گا جس کے بہت سے تعلقات آپ سے قائم ہو جائیں گے۔جتنی حمدہ آپ سوچیں گے اتنے ہی محبت کے رابطے خدا تعالیٰ سے بڑھنے شروع ہو جائیں گے۔اللہ تعالٰی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس