ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 411 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 411

411 کے احسان کو یاد کرو۔والدین کے احسان کو یاد کر کے آنحضرت فرماتے ہیں اے خدا! ان کی طرف سے مجھے شکر کی توفیق عطا فرما۔پس جن کی طرف سے محمد رسول اللہ شکر ادا کر رہے ہوں کیسے ممکن ہے میں تو یقین نہیں کر سکتا کہ اللہ تعالی ان سے مغفرت کا سلوک نہ فرمائے۔وأن أعمل صالحا ترضعہ اور شکر کی تعریف فرما دی۔ہم جو زبانی شکر ادا کرتے رہتے ہیں یہ تو کوئی شکر نہیں۔فرمایا شکر کس طرح ادا کروں فرمایا و آن أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضُهُ۔میں ہمیشہ ایسا عمل کروں کہ جن کے نتیجہ میں تو راضی ہو تا رہے۔اس میں شکر کا فلسفہ بھی بیان ہو گیا۔ایک انسان شکر اس لئے کرتا ہے کہ کوئی شخص اس پر احسان کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ اس احسان کا بدلہ چکا سکے۔خدا کو آپ احسان کا بدلہ نہیں دے سکتے لیکن احسان کا بدلہ چکانے کی روح یہ ہے کہ جب آپ احسان اتارتے ہیں تو اگلا راضی ہوتا ہے۔جب آپ کو کوئی تحفہ دے اور آپ اس کو اس سے بڑھ کر تحفہ دیں تو تجھے تو عارضی چیزیں ہیں بعض دفعہ وہ خود استعمال بھی نہیں کرتا کسی اور کو دے دیتا ہے یا پھینک دیتا ہے یا اس کے کام کی چیز نہیں ہوتی لیکن وہ راضی ہو جاتا ہے اگر محبت سے ایک ذرہ بھی کسی کو تحفہ دیا جائے تو وہ راضی ہو جاتا ہے تو کیسا عمدہ گہرا نفسیاتی نکتہ بیان فرمایا۔فرمایا کہ میں تو تجھ پر احسان کر نہیں سکتا لیکن مجھے راضی تو کر سکتا ہوں اور احسان کا بدلہ تو اسی لئے پکایا جاتا ہے کہ کوئی راضی ہو جائے ہیں اب تو ایسا فیصلہ فرما کہ ایسے عمل کی تو مجھے خود توفیق عطا فرما۔مجھے معلوم نہیں تو کس عمل سے راضی ہو گا۔جس عمل سے بھی تو راضی ہوتا ہے وہی عمل میں کرتا چلا جاؤں اور ساری زندگی میں تیری رضا حاصل کرتا رہوں۔تجھے خوش کرتا رہوں۔وآضي غرين في ذريتي اور یہی نہیں میری ذریت کو بھی صالح بنا دے اور اس ذریت میں آپ ب شامل ہیں۔صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی اولاد ہی نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان جنہوں نے آپ سے تعلق جوڑنا تھا یا آئندہ جوڑیں گے وہ سارے اس دعا میں شامل ہو جاتے ہیں الي حُبْتُ إِلَيْكَ وَاللَّهِ مِن المسلمين (الاحقاف : ( دیکھیں اب بات کس طرح کھل گئی ہے۔