ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 394 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 394

394 بندے بہت ہیں مگر ایسا بندہ ہو تب مزے کی بات ہے جیسے ایوب تھا۔بہت ہی صبر کرنے والا تھا۔ان آداب اور کثرت سے میری طرف جھکنے والا تھا۔قبولیت دعا کے لوازم پس دعا کی قبولیت کے پیچھے یہ مزاج بھی تو ہیں جنہیں اپنانا ہو گا۔محض درد کا اظہار کافی نہیں ہے۔خصوصیت کے ساتھ درد کا اظہار اگر ایسے بندہ کی طرف سے ہو جو صابر ہو تو دل پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور عام انسانی معاملات میں میں نے تجربہ کر کے دیکھا ہے کہ بعض لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر درد کا اظہار کرتے ہیں وہ مانگیں بھی تو ان کو دینے پر دل نہیں کرتا۔جس طرح بعض بندے جن کو مانگنے کی عادت نہیں ہے وہ خاموش رہتے ہیں اور صبر پر صبر کرتے چلے جاتے ہیں۔جب ان کا صبر ٹوٹتا ہے تو بے اختیار ان کے لئے دل پھٹنے لگتا ہے اور انسان کہتا ہے کہ بہت ہی تکلیف میں ہو گا۔جب اس نے یوں ہاتھ پھیلایا ہے تو ایک تو اس دعا سے پہلے حضرت ایوب کا صبر ہے جس نے ایک پس منظر بنایا اور پھر اوّاب کا مطلب ہے ہر بات میں خدا کی طرف دوڑتا تھا۔غیر کی طرف نہیں جاتا تھا۔جب بھی کوئی ضرورت پڑتی تھی، جب بھی کوئی تکلیف ہوتی تھی اگر دوڑتا تھا تو خدا کی طرف دوڑتا تھا۔یہ دو عادتیں ہیں جن کے نتیجہ میں اللہ تعالٰی نے اس دعا کو اس شان کے ساتھ قبول کیا ہے۔پس جب بھی آپ قرآنی دعائیں مانگا کریں تو ان اداؤں کے ساتھ مانگا کریں جن اداؤں کے ساتھ پھر دعائیں مقبول ہوتی ہیں۔بعض لوگ مجھے کہتے ہیں کہ جی ہمیں آپ دعا لکھ دیجئے جو ہم کرتے رہیں۔بعض کہتے ہیں ہم یہ ورد کرتے چلے جا رہے ہیں۔گھنٹوں مصلے پر بیٹھ کر یہ ورد کرتے چلے جاتے ہیں۔ہماری دعا تو ابھی تک قبول نہیں ہوئی لیکن بغیر اداؤں کے کیسے قبول ہو گی۔پیار تو اداؤں پر آتا ہے کلمات یہ نہیں آیا کرتا۔ایک ہی بات ایک عام آدمی کہتا ہے بعض دفعہ اس پر غصہ آجاتا ہے ایک ایسا شخص جس سے پیار پیدا ہو جائے جب وہ بات کہتا ہے تو اس پر پیار آتا