ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 393 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 393

393 پس حضرت ایوب کے متعلق بھی معلوم ہوتا ہے جہاں ہجرت کی گئی وہاں کے لوگوں نے اسی طرح احسان کا سلوک کیا ہے اور اللہ تعالٰی کے ارشاد کے مطابق ایسا ہوا ورنہ یہ فقرہ عجیب سا لگتا ہے۔رومنتاله اخلک یہ تو ٹھیک ہے ہم نے اس کے اجل اس کو واپس کر دیئے۔دوبارہ عطا فرما دیے۔وَمِثْلَهُمْ معَهُمْ اس جیسے اور بھی بہت سے۔تو یہ ہجرت کا انعام تھا اور میں نے بھی دیکھا ہے پاکستان سے جب انگلستان آیا ہوں تو کثرت سے ایسے خاندان ہیں جو اس قدر محبت کا گہرا تعلق رکھتے ہیں کہ بالکل یوں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے خاندان میں آگئے ہیں اور نہ صرف یہ کہ فرق نہیں لگتا بلکہ کئی پہلوؤں سے زیادہ محبت اور شفقت کا اظہار کرنے والے خاندان ہیں۔تو جب میں یہ آیت پڑھتا ہوں ہمیشہ مجھے مدینہ کی بات بھی یاد آتی ہے اور اپنے سفر کے بعد اللہ کی رحمت بھی یاد آتی ہے۔لیکن جو خاص نکتہ غور کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ دعا بعض دفعہ بن مانگے محض درد کے اظہار کے نتیجہ میں قبول ہوتی ہے۔اس سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ایک دعا کا ذکر گذرا ہے جس میں انہوں نے عرض کیا کہ رب إنّي لِمَا أَنزَلْتَ إِليَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِير (القصص : (۲۵) اے میرے خدا میں مانگتا کچھ نہیں تو بہتر جانتا ہے کہ مجھے کس چیز کی حاجت ہے پس جو تو چاہے میں اس کا فقیر ہوں اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے ہر ضرورت کو پورا کر دیا۔گذشتہ خطبہ میں میں نے اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔اب یہ بھی ایک ملتی جلتی دعا کی ادا ہے کہ اظہار درد تو ہے لیکن طلب کوئی نہیں ہے یہاں تک کہ اللہ تعالٰی خود فرماتا ہے کہ ہاں ہم نے سن لیا ہے۔تو بہت دکھ میں ہے۔بہت تو نے صبر کیا۔اب تو یہ یہ کام کر۔تو نے صبر کیا کے لفظ یہاں تو نہیں آئے لیکن اس دعا کے بعد خدا کے سلوک کا ذکر چلتے ہوئے اس بات پر بات ختم ہوئی ہے۔إِنَّا وَجَدْ لَهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابُ (ص) : (۴۵) که ہم نے اسے یعنی حضرت ایوب کو بہت ہی صبر کرنے والا پایا۔کیا ہی اچھا بندہ تھا۔عہد ہو تو ایسا ہو۔نغم العبد کا محاورہ اس رنگ کا مضمون ہے جسے ہم اردو میں کہتے ہیں کیا خوب انسان تھا۔انسان ہو تو ایسا ہو۔تو اللہ تعالی فرماتا ہے میرے ،