ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 392
392 میں اس قسم کے بہت چشمے ہیں۔بچپن میں مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ہمیں وہاں لے کر گئے اور وہاں اتنا گرم پانی تھا کہ اس میں ہاتھ ڈالنا نا ممکن تھا اور ساتھ ہی ٹھنڈے پانی کا چشمہ اتنا ٹھنڈا تھا کہ حضرت مصلح موعود نے انعام مقرر کیا کہ جو بچہ ایک منٹ ہاتھ رکھے گا میں اسے اتنا انعام دوں گا لیکن کوئی نہیں رکھ سکا۔تو وہ ایسی جگہ تھی جہاں معنوی طور پر بھی بارد پانی تھا اور ظاہری طور پر بھی ساتھ بارو پانی موجود تھا۔ایک پانی شفاء کے لئے بارد تھا اور ایک پینے کے لئے ٹھنڈ پیدا کرتا تھا اور اچھا پانی تھا۔پھر فرمایا وَوَهَبْنَالَةَ اهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ (ص: ۴۴) اور ہم نے اس کے گھر والے بھی اس کو واپس کر دیئے۔معلوم ہوتا ہے ہجرت کے وقت وہ ساتھ نہیں گئے۔جب ان کے حالات بہتر ہوئے تو پھر رفتہ رفتہ وہ ملنے شروع ہوئے لیکن محض اہل و عیال ہی نہیں ملے۔وَمِثْلَهُمْ مِّعَهُمْ اور بہت سے ایسے خاندان مل گئے جو اپنے خاندان ہی کی طرح تھے اور یہ امر واقع ہے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب ہجرت فرمائی تو جتنے خاندان رشتہ دار پیچھے چھوڑے ان سے بہت بڑھ کر محبت کرنے والے خاندان اور رشتہ دار نصیب ہوئے اور روحانی طور پر اہل مدینہ نے اخوت کا حق ادا کر دیا۔کبھی ہجرت کرنے والوں کو اپنے خاندانوں میں وہ سکون نہیں ملا۔ایسی محبت ان سے نہیں کی گئی جیسے مدینہ کے انصار نے ان سے محبت کی یہاں تک کہ بہت سے ان میں سے ایسے تھے جنہوں نے اپنی آدمی جائیداد آنے والے مہاجرین کو بانٹ دی اور اتنا جذبہ تھا اپنا سب کچھ فدا کرنے کا کہ ایک دفعہ ایک صحابی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میں نے مال جائیداد ہر چیز تو تقسیم کر دی ہے مگر بیویاں میری ایک سے زائد ہیں۔میں چاہتا ہوں اگر اجازت ہو تو آدھیوں کو طلاق دے دوں اور یہ جو مہاجر آئے ہیں بعض ان میں سے اپنی بیویوں کو پیچھے چھوڑ آئے تھے میں ان کے ساتھ ان کی شادی کروا دوں۔حیرت انگیز جذبہ تھا۔