ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 391 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 391

391 بہت ہی بڑا غاصب اور ظالم انسان تھا۔حضرت ایوب کے متعلق کہانیاں تو بہت مشہور ہیں لیکن قرآنی بیان سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ اگرچہ جسمانی بیماری بھی تھی مگر محض کوئی ایک تکلیف نہیں تھی بلکہ آپ کے دشمن نے ہر طرح سے آپ کی زندگی آپ پر اجیرن کر رکھی تھی۔آپ کے اموال لوٹ لئے گئے تھے۔آپ کے جانوروں میں طرح طرح کی بیماریاں پھیلا دی گئی تھیں۔آپ کے خاندان میں سے بعض لوگوں کو آپ سے بد ظن کر دیا گیا تھا اور اتنے درد ناک حالات پیدا کئے گئے کہ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی بیوی بھی آپ کو چھوڑ کر الگ ہو گئی۔ان تمام واقعات کا تو قرآن نے ذکر نہیں فرمایا لیکن جس رنگ میں اس دعا کے بعد خدا تعالیٰ حضرت ایوب سے مخاطب ہوا اس سے پہلی بات تو یہ پتہ لگتی ہے کہ ہجرت کا حکم تھے تھا۔ان حالات میں مزید ایسی جگہ میں ٹھہرنا مناسب نہیں ہے۔دوسرا وعدہ یہ تھا کہ تمہیں ہم ایک ٹھنڈی چشموں والی جگہ میں پہنچا دیں گے اور وہ ایسے چشمے ہیں جن سے تم اپنے جسم کو دھو تو شفاء نصیب ہو گی۔یہاں "بارد" سے مراد ٹھنڈ پیدا کرنے والا پانی ہے۔ٹھنڈا پانی نہیں کیونکہ تحقیق کرنے سے جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے حضرت ایوب کو چونکہ خارش کی جسمانی بیماری تھی اور جسم پر ناسور پیدا ہو گئے تھے اس لئے گندھک کے چشموں والے علاقے کی طرف آپ کی ہجرت ہوئی ہے جو گرم ہوتا ہے لیکن جب ایک انسان کا جسم سوزش سے جل رہا ہو اور سخت بے قرار ہو تو گرم پانی جو اسے شفا دیتا ہے تو انسان ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ مجھے ٹھنڈ پڑ گئی۔چین نصیب ہوا۔تو یہاں بارد سے مراد ٹھنڈا پانی نہیں بلکہ تسکین بخش پانی ہے۔صحت عطا کرنے والا پانی ہے۔تبھی میں نے اس کا ترجمہ ٹھنڈا پانی نہیں کیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ صحت بخش پانی۔چنانچہ پینے کے لئے بھی اچھا تھا لیکن پینے کے لئے ضروری نہیں کہ وہی پانی استعمال ہوا ہو کیونکہ ہم نے ایسے علاقوں میں دیکھا ہے جہاں بہت ہی گرم پانی کے ابلتے ہوئے چشمے ہوتے ہیں ان میں جلد کے مریض جا کر نہاتے ہیں اور صحت یاب ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی بہت ہی ٹھنڈے پانی کے چشمے بھی ہوتے ہیں اتنا ٹھنڈا پانی کہ بعض دفعہ اس میں ہاتھ رکھا نہیں جاتا۔کلو منابلی