ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 383
383 الہام ہوا۔ينقطع اباؤُكَ وَيُبْدَه مِنكَ کہ اے غلام احمد ! تیرے آباء و اجداد کی نسل کائی گئی۔دیبدَهُ مِنكَ اب تجھ سے یہ نسل جاری ہو گی۔یہ ایسا عظیم الشان الہام ہے اور ایسی عظیم الشان قوت کے ساتھ یہ سچا ثابت ہوا ہے کہ اس کی روشنی کے سامنے آنکھیں چندھیاتی ہیں۔وہ ظالم اور احمق لوگ جو کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا کوئی ایک نشان دکھاؤ۔اگر ان کے اندر ذرا بھی انصاف کا مادہ ہو تو صرف یہی بہت کافی ہے۔ان پر ثابت کرنے کے لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے دعوے میں بچے تھے۔خدا ان سے ہم کلام ہوتا تھا اور آپ کی تائید میں نشان ظاہر فرماتا تھا۔جب یہ الہام ہوا ہے جہاں تک میں نے تحقیق کی ہے اس زمانے میں کم و بیش 20 افراد خاندان آپ کے آباء و اجداد کے تھے جو قادیان میں بستے تھے اور ان میں سے کوئی ایمان نہیں لایا اور یکے بعد دیگرے وہ مرتے چلے گئے اور ان کی نسلیں ختم ہوتی چلی گئیں۔قریبی رشتے دار بھی دور کے رشتے دار بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانے کے ایک پرانے خادم تھے بابا سندھی۔وہ ایک دفعہ خدمت کے لئے ہمارے ساتھ ڈلہوزی بھی گئے۔بڑی عمر تھی لیکن پھر بھی جسم میں توانائی تھی۔ان سے بعض وقعہ ہم پرانی باتیں سنا کرتے تھے تو بڑے مزے سے وہ قصے سناتے تھے کہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود کے مخالفین کی جو حویلی تھی وہاں یکے بعد دیگرے تالے ہی پڑتے چلے گئے۔پہلے وہ گھر بیواؤں سے بھر گیا پھر ان کے بچے مرنے شروع ہوئے۔رفتہ رفتہ وہ خالی ہو گئی۔کہتے ہیں مرزا گل محمد کے والد مرزا نظام دین صاحب آخری عمر میں بہت کمزور ہو گئے تھے۔صدموں کا دماغ پر بھی اثر تھا تو میں (یعنی بابا سندھی) ان کو دبایا کرتا تھا۔کہتے ہیں! وہ مجھ سے کبھی کہتے تھے فلاں بی بی کو بلا کر لاؤ۔فلاں بی بی کو بلا کر لاؤ۔ہر دفعہ میں جواب دیتا تھا کہ میں کس کو بلا کر لاؤں اس کے کمرے میں بھی تالا پڑ گیا ہے۔میں کس کو بلا کے لاؤں اس کے کمرے میں بھی تالا پڑ گیا ہے۔بہت ہی دردناک منظر ہے لیکن خدا کی یہ شان خود ان کی بد نصیبی کے نتیجہ میں ظاہر ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام جیسا گوہر اپنے اندر پا کر اس کی قدر نہیں 1۔