ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 369
بیت الاول۔گوئٹے مالا ۱۴ جون 199 369 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ تشهد و تعویذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: آج کا یہ خطبہ میں مسجد بیت الاول گوئٹے مالا سے دے رہا ہوں۔جیسا کہ احباب جماعت کو معلوم ہے کہ ایک لمبے عرصہ سے قرآنی دعاؤں کے مضمون پر خطبات کا سلسلہ جاری ہے۔صرف گزشتہ خطبہ اس میں استثناء کرنا پڑا۔کیونکہ یہ خطبہ ٹرینیڈاڈ (TRINIDAD) میں آیا اور ٹرینیڈاڈ کی جماعت میں کوئی بھی اردو نہیں جانتا۔اس لئے جماعت کی خواہش یہ تھی کہ چونکہ تاریخ میں پہلی دفعہ ہمیں موقعہ ملا ہے کہ ہم آپ سے براہ راست بات سن سکیں اس لئے ہماری خاطر اس دفعہ استثناء کر دیں اور ہمیں مخاطب کرتے ہوئے ہمارے مسائل کو پیش نظر رکھ کر خطبہ دیں۔چنانچہ ان کی اس خواہش کے احترام میں میں نے ایسا ہی کیا۔پس اس سلسلہ مضمون کا یہ خطبہ اسی طرح جاری ہے جس طرح پہلے تھا اور بیچ کا جو خطبہ تھا وہ وقفہ شمار ہونا چاہئے۔یہ دعا جو میں اب پڑھ کر سنانے لگا ہوں سورۂ نمل کی آیت ۴۵ سے لی ہے۔اس میں ملکہ سبا جس کا نام بلقیس بیان کیا جاتا ہے اس نے یہ دعا کی کہ رب التي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاسْلَمْتُ مَعَ سُليمن ورب العلمين (سورة النمل : ۴۵) کہ اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آج سلیمان کے ساتھ اس کے رب پر ایمان لاتی ہوں۔اس سے پہلے جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمان کے پاس حاضر ہوئی تھی تو اس نے یہ کہا تھا کہ ہم نے تو جب پیغام سنا تھا اسی وقت ہی مسلمان ہو گئے تھے۔تعجب یہ ہے کہ پھر دوبارہ اسلام لانے کا کیا مطلب ہے۔اصل واقعہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان سمجھتے تھے کہ ایک منہ کی بات ہے۔