ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 363 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 363

363 پہلے یہ رواج تھا کہ یہود کو اس خدمت سے مستقلی سمجھا جاتا تھا۔وہ سمجھتے تھے ہم حاکم قوم ہیں۔جس طرح ڈرح یہاں حکومت کرتے تھے تو خود ویسے محنت کے کام نہیں کرتے تھے جیسے آپ لوگوں سے لیتے تھے یا افریقہ کے ان لوگوں سے لیتے تھے جن کو وہ پکڑ کر یہاں لائے تھے۔وہ آپ بادشاہ بن کر پھرتے تھے۔انگریز یہی سلوک ہندوستانیوں سے کیا کرتے تھے افریقیوں سے کیا کرتے تھے تو ابتداء " یہی رواج چلا آرہا تھا کہ یہود چونکہ ایک فاتح قوم ہے اس لئے یہود خود محنت کے کام نہیں کریں گے اور جو قومیں مغلوب نہو چکی ہیں صرف ان سے ان کے وقت کا 13 حصہ لیا جائے گا لیکن حضرت سلیمان کا یہ عظیم الشان انصاف ہے کہ آپ نے پہلی مرتبہ اس قانون کو تبدیل کیا اور کہا کہ یہود بھی اسی طرح وقت پیش کریں گے جس طرح غیر قومیں پیش کریں گی اور اس ملک میں اپنے اور غیر کا کوئی فرق نہیں رہے گا۔انصاف چلے گا اور کامل انصاف چلے گا۔کتنا عظیم الشان نبی تھا۔کیسے انقلابی فیصلے کرنے والا تھا۔ایسا محسن اعظم ! اور اس کا بدلہ یہود نے اس ناپاک طریق پر دیا کہ ان باتوں سے چڑ کر آپ پر گندے حملے کئے۔آپ نے چونکہ غیروں کو عبادت کا حق دیا اس لئے یہ کہنے لگ گئے کہ یہ مشرک تھا اور یہ خود غیر قوموں کی عبادت کیا کرتا تھا۔وجہ یہ بیان کی کہ بے شمار غیر قوموں کی عورتوں سے اس نے بیاہ کئے اور بیان یہ کیا جاتا ہے کہ موے بیویاں کیں اور وہ بھی کافی نہ سمجھیں اس کے علاوہ ۳۰۰ لونڈیاں بھی گھر میں رکھ لیں تو گویا ایک ہزار بیویاں حضرت سلیمان کی بیان کی جا رہی ہیں حالانکہ یہ ایک ایسی جاہلانہ بات ہے جسے انسان قبول ہی نہیں کر سکتا۔نہایت ناپاک قصے بنا بنا کر ان کی طرف منسوب کئے اور پھر یہ کہا کہ یہ ساری بیویاں غیر قوموں کی تھیں یا بھاری اکثریت ان کی تھی اس لئے ان بیویوں کو خوش کرنے کے لئے ان کے خداؤں کی عبادت کرنے لگ گیا اور ان کے حضور سجدے کرنے لگ گیا اور ان کے معبد بنانے لگ گیا تو قومیں جب وقت کے نبی کی مخالف کرتی ہیں تو اس طرح ان پر ناپاک حملے کرتی ہیں۔ہم بھی ایک ایسے زمانے سے گزر رہے ہیں جہاں ہمارے سامنے نبوت کی تاریخ بن رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ کے تابع فرمان نبی ہیں۔آزاد نبی نہیں ہیں مگر امتی نبی ضرور ہیں۔آپ