ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 358 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 358

358 پیار کی نگاہیں مجھے پر پڑ رہی ہوں۔اور پھر میں کہوں کہ ہاں اب میں نے تیرا شکریہ ادا کیا ہے۔جس طرح تو نے مجھے راضی کیا میں نے بھی تجھے راضی کر دیا۔وَادْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّاحِينَ اور مجھے اپنی خاص رحمت سے اپنے صالح بندوں میں داخل فرمالے ایسے بندوں میں جن کے متعلق تو یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ صالح زندگی گزارنے والے تھے۔عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں اور قرآن کریم سے بھی یہی ثابت ہے کہ نبی سب سے اونچی نعمت اس کے بعد صدیق اس کے بعد شہید اس کے بعد صالح، اور وہ سمجھتے ہیں صالح سب سے ادنی درجہ ہے اس لئے نبیوں سے نیچے کا مقام ہے۔لیکن یہ مطلب نہیں ہے کہ نبی صالح نہیں ہوتا۔یا نبی شہید نہیں ہوتا یا نبی صدیق نہیں ہوتا بلکہ نبی کے اندر بیک وقت یہ سارے عہدے شامل ہوتے ہیں۔یہ سارے مرتبے اس کو اکٹھے نصیب ہوتے ہیں۔جو صرف صالح ہو وہ اوپر کا درجہ نہیں رکھتا لیکن جو اوپر کا درجہ رکھتا ہو یعنی شہید ہو وہ صالح بھی ہوتا ہے۔پس انبیاء جانتے ہیں کہ انہیں ہمیشہ صالح رہنا پڑے گا اور اس لئے وہ عاجزی کے ساتھ خدا کے حضور یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ ہم تیری نظر میں صالح رہیں اور ایسے اعمال نہ ہم سے سرزد ہوں کہ تیرے ہاں ہم غیر صالح لکھے جائیں۔حضرت سلیمان پر یہود اور بائیبل کا ظلم حضرت سلیمان ایک ایسے نبی ہیں جن پر یہود نے یعنی اس قوم نے جس پر حضرت سلیمان کے سب سے زیادہ احسان ہیں سب سے زیادہ ظلم کئے ہیں۔آج تک کسی احسان مند نے اپنے محسن کے خلاف ایسی ناشکری کا مظاہرہ نہیں کیا جتنا یہودی قوم نے حضرت سلیمان کے متعلق ناشکری کا مظاہرہ کیا ہے۔آپ بائبل میں پڑھ کر حیران ہونگے کہ نہ صرف یہ کہ حضرت سلیمان کو نبی تسلیم نہیں کیا جاتا اور صرف بادشاہ مانا جاتا ہے بلکہ ایسے گندے کردار کا بادشاہ مانا جاتا ہے کہ اس کو پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔اگر نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ یہ خدا کا شکر گزار بندہ ہے تو پھر دنیا ہے امن و امان اٹھ جائے۔دنیا میں کوئی نیکی باقی نہ رہے۔یہ قرآن کریم کا احسان ہے کہ اس نے بائیل کے گزشتہ انبیاء کے تقدس کو دنیا کے سامنے دوبارہ قائم کیا ہے۔یہ