ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 348 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 348

348 نیک اعمال جن سے تو راضی ہو۔اگر عام بادشاہوں کی طرح میں نے اپنی فتوحات کے نتیجے میں یا لشکر کشی کے دوران کمزوروں کو کچلا اور مسلا اور بے بسوں پر ظلم کیا تو پھر میں اس نعمت کی خلاف ورزی کر رہا ہوں گا۔یہ معنی ہیں اس کے۔وادخلني برحمتك في عبادك الصاحين اور اپنی رحمت کے صدقے اپنی رحمت کی عطا برَحْمَتِكَ الصَّلِحِينَ کے طور پر مجھے نیک بندوں میں شامل فرمالے۔یہ دعا اس وقت کے کام کی دعا ہے جب انسان کو خداتعالی بنی نوع انسان کے ایک سے پر کسی قسم کی فضیلت بنے۔کسی قسم کا ان کے ساتھ معاملہ کرنے کی طاقت بخشے اور اس کے نیچے کئی قسم کے خدمتگار ہوں۔کئی لوگوں کے معاملات اس کے قبضہ قدرت میں ہوں۔ایسے وقت میں بھی انسان کو محض اپنی عقل پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ جس طرح حضرت سلیمان جو بہت ہی صاحب عقل تھے اور سب سے بہتر مقام پر فائز تھے، یہ فیصلہ کرتے کہ کون مجرم ہے کون نہیں ہے۔کس کو سزا دینی ہے۔کس کو نہیں دینی ہے۔لیکن اعلیٰ عقل کا سب سے بڑا تقاضا یہ تھا کہ وہ عاجزی کے ساتھ خدا سے دعا کرتے کہ اگر تو نے مجھے توفیق دی تو میں اس طاقت کا صحیح استعمال کر سکوں گا۔اگر تو نے مجھے توفیق نہ دی تو میں اپنی عقل کے باوجود اس طاقت کا صحیح استعمال میں کر سکوں گا۔خطرہ ہے کہ ایسے اعمال سرزد ہوں جن سے تو ناراض ہو۔اس لئے مری التجاء یہ ہے کہ خواہ کتنی ہی مجھے حکومت کیسا ہی غلبہ کیوں نہ عطا کر۔مجھے توفیق عطا فرما کہ ہر حالت میں میرے اعمال تیری رضا کے مطابق ہوں۔اور طاقت کے نشے میں میں کوئی غلطی نہ کر بیٹھوں پس ہر موقع ہر محل کے مطابق ان لوگوں کی دعائیں قرآن کریم میں محفوظ ہیں جن پر اللہ تعالی نے انعام نازل فرمائے اور جن کی راہوں پر چلنے کی ہم سورڈ فاتحہ میں دعا کرتے ہیں۔اللہ تعالٰی ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ان راہوں پر خدا کی رضا کے مطابق ہمیشہ قدم مارتے رہیں۔