ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 342
342 اور یہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے اور کیوں جھٹلائیں گے ويضيق صدري و لا ينطلق لساني میرا سینہ باتیں بیان کرتے وقت کھلتا نہیں ہے۔میں کوئی مضمون سوچ کر بیان کرنا چاہتا ہوں تو اپنے سینے میں تنگی محسوس کرتا ہوں اور یہ انسانی تجربہ کی بات ہے۔ایک انسان بات ٹھیک بیان نہیں کر سکتا۔طالب علم امتحان میں بعض باتیں جانتے ہوئے بھی پیش نہیں کر سکتے۔یہ ضروری نہیں کہ جو طالب علم ناکام رہے یا کم نمبر لے وہ ضرور ہی نالائق ہو گا۔بعض دفعہ اس بے چارے کو بات پیش کرنے کا سلیقہ نہیں آتا۔تو حضرت موسیٰ نے اس طرح اللہ سے عرض کیا لا ينطلق لساني میری زبان بھی نہیں کھلتی۔کہا جاتا ہے حضرت موسیٰ ہکلا کر بولتے تھے۔فازیل إلى هرون اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ ہارون کی طرف وحی بھیج دے۔اب یہ عجیب دلچسپ دعا ہے۔عاجزی بھی ہے سادگی بھی کیسی پیاری کہ اللہ تعالیٰ کو بتا رہے ہیں کہ ان باتوں کو سوچ کر میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ زیادہ مناسب ہوگا کہ ہارون کو نہی بنایا جائے اور مزید اصل بات آخر پر نکلی ہے۔وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْبُ فَلَخَافُ آن يَقْتُلُون مشکل یہ ہے کہ مجھ پر ایک گناہ ہے جسکے لئے اس قوم کو میں جواب وہ ہوں۔اور غلطی سے مجھ سے ان کا ایک آدمی مر گیا تھا۔اب اگر عام حالات میں نبی کو جھٹلائیں تو وہ تو ہے ہی جھٹلانا۔لیکن اگر جرم بھی ہو اور پتہ ہو کہ نبی نہیں ہے یہ جھوٹا ہے۔پھر تو بڑھ چڑھ کر زیادہ غصے کے ساتھ پہلے نقصان کا بدلہ اتاریں گے اور پہلے گناہ کی جزا دیں گے۔تو یہ تھا اصل قصہ نہ جس کی وجہ سے اپنے آپ کو بیچ میں سے نکال ہی دیا کہ اے اللہ ان سب حالات میں بہتر یہی ہے کہ تو موسیٰ کی بجائے ہارون کو نبی بنا دے قال كلا فَاذْهَبَا بِايَتِنَا إِنَّا مَعَكُمْ مُسْتَمِعُونَ فرمایا کہ خبردار موسیٰ ضرور جاؤ لیکن تم دونوں جاؤ۔اب دعا قبول بھی فرمائی اور وہ جو خوف تھا وہ بھی دور کر دیا۔گلا میں ہلاکت کا ڈرانا نہیں بلکہ امید کو زیادہ یقینی طور پر پیش کرتا ہے۔گلا سے مراد یہ ہے کہ جو باتیں تو سوچ رہا ہے تیرے تو ہمات ہیں ان میں کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔ہو کیسے سکتا ہے کہ خدا کے تم نمائندہ ہو اور خدا کی مرضی کے سوا کوئی تم پر ہاتھ ڈال بیٹھے۔فاذهبا تم دونوں جاؤ پانینا ہمارے نشانات لیکر انا معكم