ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 341

341 وقل رب زدني علماً تو یہ نہ کیا کریں کہ اعلیٰ مضمون کو چھوڑ دیا کریں اور ادنی مضمون کو ذہن میں رکھ کر دعا کیا کریں۔دعا یہ کیا کریں کہ اے خدا ہم دنیا کے عارضی علوم کی طرف متوجہ ہیں۔یہ مجبوریاں ہیں۔ہمیں وہ علم بھی عطا فرما جو تو نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم پر نازل فرمایا تھا۔اور اس کے صدقہ میں ہمیں یہ دنیاوی علم بھی عطا فرمادے جو اس کی ذیل میں آتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ میں نے وہ جگہیں بھی درج کروالی ہیں جہاں انکو اپنی ترتیب کے لحاظ سے بیٹھنا چاہیے تھا۔مگر اس وقت میں چھوڑتا گیا ہوں لیکن جب یہ خطبہ ضبط تحریر میں آئے گا تو کاتب وہ ذکر بھی کردے گایا ان کو اٹھا کر وہیں لے جائے گا جہاں انکو ہونا چاہیے۔یعنی جب یہ سلسلہ خطبات اکٹھا شائع ہو گا تو آج جو ان آیات سے متعلق گفتگو ہوئی ہے انکو ہم اصل مقام پر لے جائیں گے۔تو جو لوگ سن رہے ہیں وہ بعد میں خیال نہ کریں کہ غلطی ہو گئی ہے۔بالا رادہ ایسا کیا جائے گا۔حضرت موسیٰ کی دعا جو بے بسی کی حالت میں ہر شخص کر سکتا ہے اب جہاں سے مضمون چھوڑا تھا وہاں سے پھر بات شروع کرتا ہوں۔سورۃ الشعراء آیات ۱ تا ۸ا میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کا ذکر فرمایا گیا ہے۔واذ نَادَى رَبُّكَ مُوسى اَنِ انتِ القَوْمَ الظَّلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَونَ الَّا يَتَّقُونَ - قال رب إني أَخَافُ أن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إلى هرُونَ - وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْبُ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ - (الشعراء : ۱۱-۱۵) حضرت موسیٰ پر جب خدا تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی اور ان کو حکم فرمایا کہ تو فرعون کی ظالم قوم کی طرف جا الا يتقون کیوں وہ تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔کیوں وہ خدا خوفی کی راہ اختیار نہیں کرتے۔قالَ رت الي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ عرض کی اے خدا میں ڈرتا ہوں کہ مجھے جھٹلا نہ دیں۔اب یہ جو لفظ ہے جھٹلانے کا۔اسمیں حضرت موسیٰ کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ انبیاء کو ہمیشہ جھٹلایا جاتا ہے بلکہ خاص دلیل آپ کے ذہن میں ہے جس کو قرآن کریم کھول کر بیان فرماتا ہے وہ کہتے ہیں وہ تقوی اختیار نہیں کرتے ٹھیک ہے پر میں بھی تو ایک بات سے ڈرتا ہوں اور وہ خوف میرا